صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 405
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حدیث زیر باب عمومیت کا رنگ رکھتی ہے یعنی سوائے مریم و ابن مریم کے ہر آدم زاد کو شیطان چھوتا ہے۔ ثُمَّ يَقُولُ أَبُوهُرَيْرَةَ: وَإِنِّي أُعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيم (آل عمران: ۳۷) یہ حصہ روایت از قبیل ادراج اور موقوف ہے۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۷۳) حضرت ابوہریرہ خود اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ جب حضرت مریم علیہا السلام اپنی ماں کے پیٹ میں تھیں تو اس نے انہیں اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کیا اور ان کے شیطان سے محفوظ رکھے جانے کی دعا کی تھی۔ غرض یہ وجہ جس میں بھی پائی جائے گی وہ مس شیطان سے محفوظ رکھا جائے گا ۔ امام بخاری نے اسی غرض سے یہ روایت سورہ مر ا مریم کی معنونہ آیت کے تحت رکھی ہے کہ اس میں جس وعدہ الٰہی کا ذکر ہے اس میں دعا بھی ہے اور بشارت بھی۔ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا (مریم: (۶۵) که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے تجدید دین واحیائے ملت کے لئے مبعوث ہونے والے بھی مس شیطان کی طبعی تاخیر سے اسی طرح محفوظ رکھے جائیں گے جس طرح مریم و ابن مریم علیہما السلام - کیونکہ خلق سے متعلق عام تقدیر الہی خاص تقدیر الہی سے بدل جاتی ہے۔ عموم و خصوص کا یہ وہ استدلال ہے جو اس باب میں امام بخاری کے مد نظر ہے۔ علامہ قرطبی نے بھی مس س شیطان سے عدم تسلط شیطان مراد مراد لی ہے۔ جس سے مریم و ابن مریم علیہما السلام اپنی ماں کی دعا سے بہرہ ور ہوئیں ۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۷۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ۔ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ۔ (مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) مجھے حکم نہیں دیتا مگر بھلائی ہی کا۔ اگلے باب کے تعلق میں بعض شارحین نے حضرت مریم کے نبیہ یا غیر نبیہ ہونے کی بحث بھی اُٹھائی ہے۔ لیکن یہ خارج از موضوع ہے۔ غیر نبی بھی تو وحی و مخاطبہ و مکالمہ الہیہ سے مشرف ہوتا ہے، جیسے صدیق وابرار وغیرہ مقربین باری تعالیٰ ہوتے ہیں۔ مکالمہ و مخاطبہ ہی سے تو ان کا علم یقین سے حق الیقین و عین الیقین تک پہنچتا ہے۔ ورنہ شرف مکالمہ کے بغیر دل ایسی تسلی کہاں پا سکتا ہے۔ امام بخاری نے اس باب کے عنوان ہی میں استدلال بالا ولی کے طریق پر جہاں مذکورہ بالا خیال رڈ کیا ہے وہاں امت محمدیہ میں بعثت علی منہاج النبوۃ کا سلسلہ مماثلت جاری وساری ثابت کیا ہے۔ یعنی اگر پہلی امتوں کی عورتیں مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے شرف یاب ہو سکتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے افراد مرد و زن کیوں نہیں ہو سکتے ۔ خطاب ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا کے پیش نظر وہ بدرجہ اولی اس رحمت مخصوصہ سے مشرف ہوں گے۔ چنانچہ اگلے دو ابواب اور ان کی روایتوں میں اسی موضوع کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔