صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 404 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 404

صحيح البخاري - جلد 1 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ۴۴ کے اس تعلق میں باب ۲۱ کی شرح بھی دیکھئے جہاں مذکورہ بالا سیاق کلام کی وضاحت موجود ہے۔ سورۃ مریم کا یہ مخصوص سیاق مزید تین باتوں سے بھی متعین ہوتا ہے۔ اوّل یہ کہ عنوان باب میں آیت متعلقہ بشارت مریمی فقره إن الله يُبشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ پر ختم ہے۔ مابعد کے الفاظ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيم محذوف ہیں اور امام بخاری کا یہ طریق ہے کہ جس خاص بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوا ہو اس پر آیت یا حدیث ختم کرتے ہیں۔ ایسی مثالیں شرح بخاری میں بیسیوں گزر چکی ہیں۔ یہاں عنوان باب میں چونکہ سورۃ مریم والی آیت رحمت سے متعلق اس امر پر توجہ مرکوز کرانا چاہتے ہیں کہ یہ آئندہ کی پیشگوئی پر مشتمل ہے، اس لئے كَلِمَة پر وقف کیا گیا ہے۔ دوسری اور تیسری بات جس سے سورۃ مریم کا سیاق کلام متعین ہوتا۔ ہے وہ اس ہ اسلوب استدلال بالا ولی اور قاعدہ عموم وخصوص ہے جو باب ۴۴ - عنوان اور اس کی روایت میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت اِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ (آل عمران : ۳۴) کی شرح سے جو بحوالہ حضرت ابن عباس مروی ہے، ظاہر ہے کہ آل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مومن شامل ہیں تو سورۃ مریم کی آیات مبشرہ رحمت میں امت محمد یہ بدرجہ اولی شامل ہے۔ کیونکہ اس سورۃ کے شروع ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں اور آپ سے فرمایا گیا ہے کہ یہ تیرے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو زکریا وغیرہ پر ہوئی۔ اس اسلوب استدلال بالا ولی سے سورۃ مریم کا موضوع واضح طور پر معین ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جو روایت اس باب کے تحت درج کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمُسُهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ ۔۔۔ بنی آدم کے ہر طفل نو مولود کو شامل رکھتے ہیں سوا مریم اور ان کے بیٹے عیسی کے۔ اس روایت سے استدلال عموم و خصوص کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ اور آپ کی امت کے وہ ابرار وصلحاء اور دیگر انبیاء و رسل جو رحمت ربانی سے نوازے گئے ہیں ، وہ بھی اس قاعدہ عموم و خصوص کی بناء پر مسن شیطان سے اسی طرح بدرجہ اولی مستثنیٰ ہیں جس طرح حضرت مریم و حضرت عیسی علیہما السلام -۔ کیونکہ ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنی فرمایا ہے اور ان کو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے مخصوص فرما کر مستثنی فرمایا۔ غرض یہ وہ لطیف استدلال ہے جو اس باب کی آیات اور ان کی شرح اور روایت مندرجہ بالا میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا استثناء ہی کی کیفیت نمایاں کرنے کی غرض سے مشہور و معروف روایت سورۃ مریم والی آیات مبشرہ رحمت کے تحت درج کی گئی ہے کہ تا عقل و فہم سے کام لے کر اس کا اصل مدعا و منشاء سمجھا جائے کہ صرف دو حص ہی مس : دو شخص ہی مس شیطان سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ رہے؟ قبل ازیں بتایا جا چکا ہے کہ حضرت عیسی اور ان کی والدہ چونکہ زیر الزام تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معصومیت کا ذکر خصوصیت سے فرمایا ہے۔ جس پر عیسائی صاحبان بلا وجہ نازاں ہوتے ہیں۔ دفع الزام تو ایک سلبی پہلو ہے اس پر فخر کیا ؟ اصل تو مثبت پہلو ہے جو رحمت ربانیہ سے خاص کر نوازا جاتا ہے اور سورۃ مریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امت محمدیہ کی جس شان بلند و بالا کا ذکر ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ اس امت کے ابرار کو انبیاء بنی اسرائیل وغیرہ سے مماثلت تامہ حاصل ہے۔