صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 403
صحيح البخاري - جلد 1 ۴۰۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء یہ امر تو بالوضاحت ثابت ہو چکا ہے کہ ان ابواب کا موضوع دو سلسلوں سے متعلق موازنہ و مقابلہ و مماثلت کا بیان ہے۔ سورۃ مریم کا آغاز آیت ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا سے ہوا ہے اور اس آیت سے باب ۴۳ کا عنوان قائم کیا گیا ہے اور باب ۴۴ کی آیات وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ ۔۔۔ (مريم) (۱۷) يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ (آل عمران : (۴۶) کا عطف طبعاً آیت ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا پر ہے ۔ جیسا کہ آیت وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا (مريم: (۴۲) يا وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ (مریم: ۵۵) يَا وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ (مریم: ۵۷) کا عطف ۔ سورۃ مریم کی پہلی آیت میں لفظ ذكر مصدر ہے اور وَاذْكُرُ صیغہ فعل امر ہے۔ چونکہ مصدر تمام صیغے اپنے اندر شامل رکھتا ہے اس لئے وَاذْكُر صیغہ فعل امر کا عطف مصدر ذکر پر نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ ورنہ وَاذْكُرْ فُلَانًا، وَاذْكُرُ فُلَانًا کی خالی تکرار بلا تعلق سے مفید معنی حاصل نہیں ہوتے۔ لیکن اگر ما بعد کی آیات کا عطف جو وَاذْكُرُ سے شروع ہوتی پرتہ ہیں، سورۃ مریم کی پہلی آیت پر تسلیم کیا جائے تو یہ کلام نہایت پر مغز و معنی اور وسیع مطال رو معنی اور وسیع مطالب پر نظر آتا ہے اور ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اے محمد ( ﷺ ) تیرے رب کی جو رحمت اس کے بندے زکریا پر ہوئی اس کا ذکر کیا جائے اور اس رحمت کا بھی جو ابراہیم و اسحاق و یعقوب و اسماعیل علیہم السلام پر ہوئی۔ اس رحمت کی نشاندہی اور شرح ہی میں ہمارے سوال کا جواب موجود ہے۔ وہ رحمت یہی ہے کہ صفت موہبت باری تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو ظاہری باب کی عدم موجودگی میں نوازا نوازا اور حضرت عیسی جیسا ہے رت عیسی جیسا بیٹا بخشا جو امت موسویہ کے و امت موسویہ کے لئے جانشین ؟ جانشین ہوا۔ جیسا کہ حضرت زکریا کی دعا قبول ہو کر حضرت کی عطا کئے گئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل و حضرت اسحق علیہما السلام عطاء کئے گئے۔ حضرت اسحق کو حضرت یعقوب علیہما السلام عطاء کئے گئے ۔ وُكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا (مریم): (۵۱،۵۰) اور حضرت موسی کو وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نبیاہ (مریم: ۵۴) ان کے بھائی حضرت ہارون نبی بطور جانشین دیئے گئے۔ اسی طرح حضرت اور لیس علیہ السلام بھی رحمانی موہبت نبوت سے نوازے گئے۔ غرض مذکورہ بالا عطف واؤ اور وَاذْكُرُ سے ہمارے سوال کا جواب بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ان آیات کا موضوع در حقیقت وہ روحانی خلافت حقہ ہے جو علی منہاج نبوت چلی آتی ۔ ہے اور حضرت مریم کا ذکر بھی اسی تعلق میں ہے اور اس سے آل عمران والی تیسری آیت کی شرح کا تعلق بھی واضح ہو جاتا ہے ۔ مذکورہ بالا الہی انتخاب کے ذکر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مومن شامل ہیں جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ اس باب باب کا کی آیات کا تعلق در حقیقت امت محمدیہ کی اس روحانی خلافت سے ہے جو موہبت رحمانی کی ترجمان ہے۔ یعنی انتہائی مایوس کن حالات اور ظاہری اسباب کے فقدان میں جس طرح خدائے وہاب نے انبیاء جانشین مبعوث فرما کر گرتی امت کو سنبھالا اور اُٹھایا ہے اسی طرح خدائے رحمان و باب امت محمدیہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے والا ہے۔ یہ موضوع ہے باب ۴۴ کا۔