صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 402
صحيح البخاري - جلد 4 تشریح: ۰۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ : باب ۴۴ قابل توجہ وغور ہے۔اس میں تین مختلف آیتوں کا حوالہ : دیا گیا ہے۔ایک آیت سورۃ مریم کی ہے اور دو آیتیں سورۃ آل عمران کی (نمبر ۴۶،۳۴)۔تیسری میں ذریت آدم و نوح وغیرہ میں سے سابق انبیاء کی بعثت اور ان کے انتخاب سے متعلق سنت اللہ کا بیان ہے۔نیز یہ ذکر ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کی ولادت پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی عطاء محدود نہیں کہ وہ ایک ہی قوم اور چند اشخاص سے مخصوص سمجھی جائے۔امام بخاری نے تیسری آیت کا حوالہ اسی بلا حساب وسعت رحمت ربانیہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے دیا ہے۔عنوان باب میں حضرت ابن عباس کے مندرجہ قول سے ظاہر ہے کہ آل عمران سے تمام مومن مراد ہیں جن کا تعلق آل ابراہیم، آل عمران، آل یاسین اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور اس شرح کی تائید میں حضرت ابن عباس نے صرف اپنے قیاس پر اعتماد نہیں رکھا بلکہ سورۃ آل عمران ہی کی اس آیت کا حوالہ دیا ہے: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ۔۔۔( آیت (۶۹) ابراہیم کے ساتھ لوگوں میں سے زیادہ تعلق رکھنے والے یقینا ( یقین ) وہ لوگ ہیں جو اس کے پیرو ہیں اور (نیز) یہ نبی اور جو لوگ ( اس پر ایمان لائے اور اللہ مومنوں کا دوست ہے۔حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا شرح ابن ابی حاتم سے بسند علی بن ابی طلحہ موصولاً مروی ہے۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۵۷۲) سورۃ آل عمران کی محولہ بالا آیت ۳۵ میں ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ سے اس روحانی مماثلت کا ذکر ہے جس کے پیش نظر جمله ارواح الابرار جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ کے زمرے میں شمار کی گئی ہیں اور اس مماثلت کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو (أَوْلَى بِإِبْرَاهِيمَ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب لوگوں سے زیادہ مشابہ و ہم شکل قرار دیا ہے۔اسی طرح دوسرے مومن بھی علی حسب مدارج و مراتب۔غرض اس حوالہ سے آیت إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا کے وسیع مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔اس آیت کے تعلق میں اہل اور آل کے درمیان فرق کی وضاحت بھی بلا وجہ نہیں۔اہل یعقوب سے مراد یعقوب کا خاندان ہے جو تصغیر یعنی قلت پر دلالت کرتا ہے اور آل یعقوب کثرت افراد پر۔آل کے معنی ہیں رَجَعَ إِلَى أَصْلِہ اپنے اصل کی طرف لوتا اور ان کا ہم جنس اور مثیل ہو گیا۔اھل کی تصغیر کھیل ہے جس سے چند افراد خاندان مراد ہیں۔اب سوال قابل غور وحل یہ ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت ۳۸ اور اس کی شرح کا تعلق سورۃ مریم والی آیت سے جو عنوانِ باب میں پہلے درج ہے کیا ہے؟ یا محض اس لئے یہ آیات اکٹھی کر دی گئی ہیں کہ ان میں حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر آتا ہے؟ قرآن مجید میں ایسی اور بھی آیات ہیں جن میں ان کا ذکر وارد ہوا ہے۔اگر محض اشتراک اسم کی وجہ سے انہیں اکٹھا درج کر نامد نظر تھا تو وہ کیوں نظر انداز ہیں۔میری نظر سے اب تک تو ایسا کوئی باب نہیں گزرا جس میں یونہی اس قسم کے اشتراک ذکر سے آیات یا احادیث وروایات ایک جگہ جمع کی گئی ہوں بلکہ کوئی نہ کوئی اہم مقصد ترتیب و شرح الفاظ میں ہمیشہ امام موصوف کے پیش نظر رہا ہے۔قارئین بھی اس سوال پر غور کریں اور اس کا جواب اس باب میں یا اس کے آگے پیچھے کے ابواب میں ڈھونڈیں۔