صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 400 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 400

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء خطاب الہی سے نمایاں ہو اور اس سے توجہ دلائی جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین بھی اس منہاج نبوت و خطاب سے سرفراز ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی امت پر بہت ہی مہربان ہے۔چنانچہ امام بخاری نے اپنا یہ مقصد واضح کرنے کے لئے لفظ حفیا کی شرح لَطِیفًا سے سورۃ مریم کی آیت إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (مریم: ۴۸) کا حوالہ بطور دلیل دیا ہے۔حفی کے معنی ہیں غایت درجہ مہربان۔انتہائی مہربانی کا جو تقاضا ہے وہ ظاہر ہے۔-۴- عَاقِرًا اَلذَّكَرُ وَالْأُنثَى سَوَاء عَاقِر کے معنی بانجھ۔مرد و زن دونوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔امام بخاری کا اس لفظ سے حضرت ذکریا علیہ السلام کی دعا کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ آپ کی دعاسے آپ کی بیوی کا بانجھ پین دور ہو گیا۔مایوس کن حالات پر امید ہو گئے اور آل یعقوب کا ور شہ ضائع ہونے سے متعلق ان کا خوف جاتارہا۔وَلَمُ أَكُنُ بِدُعَاءِ كَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم:(۵) حضرت زکریا کی دعا و گریہ زاری تو قبول ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں اُمت کے لئے رائیگاں جائیں !! اور امت محمدیہ میں مثیل سلسلہ خلافت موسویہ جاری نہ ہو یہ ناممکن ہے۔غرض باب ۴۳ کی آیات اور الفاظ کی شرح سے استدلال و مقصود واضح ہے۔چنانچہ اس باب کی روایت کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہے نہ کہ انبیائے بنی اسرائیل کے حالات سے۔اس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی گزشتہ وفات یافتہ انبیاء ورسل کے زمرہ میں دیکھے گئے ہیں اور ان سب نے ایک ایک کر کے آپ کی آمد پر مرحبا کہا کہ آپ کے آنے سے ان انبیاء کی غرض و غایت پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔نیز اس روایت میں آپ کے معراج ہی کا ذکر ہے جس سے مقصود بالکل ظاہر ہے۔بَاب ٤٤: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ مَرْيَمَ اذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (مريم: ۱۷) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: کتاب میں مریم کا حال پڑھ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک شرقی مکان میں چلی گئی تھی اِذْ قَالَتِ الْمَلَيْكَةُ لِمَرْيَمُ إِنَّ جب ملائکہ نے کہا: اے مریم ! اللہ تجھے اپنی ایک بات اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ (آل عمران : ٤٦) کی بشارت دیتا ہے۔اِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا قَالَ (نیز فرمایا ) اللہ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی اولاد اور ابْرُهِيْمَ وَآلَ عِمُونَ عَلَى الْعَلَمِینَ عمران کی اولاد کو تمام قوموں میں سے لوگوں کی اصلاح إِلَى قَوْلِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ کے لئے چن لیا۔جس کو چاہتا ہے بغیر حساب دیتا