صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 399
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جنہیں خیر القرون قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک حضرت زکریا علیہ السلام کی صحت و تندرستی کا تعلق ہے ٹکٹ لیال سے تین راتیں یعنی تین دن ہی مراد ہیں کہ تو اتنے دن تندرست رہے گا۔ لیکن جہاں د ذِكْرُ رَحْمَةِ رنگ رحمت ربانی کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے وہاں ثَلَاثَ لَيَالٍ سے مراد پیشگوئی والا عرصہ ہے۔ انبیاء کی اصطلاح میں ایک رات یا ایک دن سو سال کے برابر ہونے کا ذکر سورۃ البقرہ کی آیت ۲۶۰ میں دیکھا جائے۔ آیات متعلقہ حضرت زکریا، حضرت یحی ، حضرت مریم و حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کا تعلق انباء الغیب یعنی بعثت موعودہ کی پیشگوئیوں سے ہے اور زمانہ احیاء و تجدید کے بارہ میں ان میں ذکر ہے۔ اس لئے ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا سے ضمنا یہ پایا جاتا ہے کہ امت محمد یہ تین صدیوں تک تندرست رہے گی اور اس کے بعد حسب تصریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانه فساد و اضمحلال شروع ہوگا تو اس کے بعد ہر صدی میں امت محمدیہ کی اصلاح و احیاء کے لئے منہاج نبوت کے معیار پر سلسلہ تجدید کا آغاز ہوگا اور خلافت موسویہ کی طرح خلافت محمدیہ کا دور شروع ہوگا۔ یہ مدعا و منشاء ہے باب ۴۳ کی معنونہ آیات کا اور فقرہ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا کے نمایاں کرنے کا ۔ لفظ سَوِيًّا کی شرح لفظ صحيحًا سے بلاوجہ نہیں۔ یہ ابن ابی حاتم نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم اور ابو عبد الرحمن سلمی کی سند سے نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۷۱) ۲- فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (مریم: (۱۲) اس کے بعد زکریا محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آہستہ آواز میں کہا کہ صبح اور شام خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہو۔ اس سے ان دعاؤں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے کی ہیں۔ نیز اس امر کی طرف کہ ہمیں بھی دعائیں جاری رکھنی چاہئیں ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ اللَّهُمَّ أَيْدِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِينَ بِالْإِمَامِ الْحَكَمِ الْعَادِلِ اللَّهُمَّ انْصُرُ مَنْ نَصَرَ دِيْنَ مُحَمَّدٍ الله - یہ امر کہ مذکورہ بالا آیت سے امام بخاری کا اشارہ دعاؤں ہی کی طرف ہے۔ لفظ فَأَوْحَی کی شرح فَأَشَارَ سے ظاہر ہے۔ اس شرح کا ذکر بلا وجہ نہیں ۔ یہ شرح محمد بن کعب اور مجاہد سے مروی ہے اور ابن ابی حاتم سے نقل کی گئی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۷۱) - يَا يَحْيُ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا ۔۔۔۔ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (مریم: ۱۳ تا ۱۶) اس کے بعد یچی پیدا ہو گیا اور ہم نے اسے کہا: اے بھی ! تو (الہی ) کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے اور ہم نے اسے چھوٹی عمر میں ہی (اپنے) حکم سے نوازا تھا (اور یہ بات ) ہماری طرف سے بطور مہربانی ( اور شفقت کے تھی) اور (اسے ) پاک کرنے کے لئے (تھی) اور ور وہ بڑا متقی تھا اور وہ ا وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور ظالم اور نافرمان نہیں تھا اور جب وہ پیدا ہوا تب بھی اس پر سلامتی تھی اور جب وہ مرے گا اور جب وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا ( تب بھی اس پر سلامتی ہوگی۔ ) اس آیت کا حوالہ اس غرض سے دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روحانی جانشینوں کا مقام نبوت اسلوب