صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 398 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 398

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حامل ہے کہ اسی طریق سے آپ کی امت کا تدارک بھی ہوگا۔سورۃ مریم کی آیات کا باب ۲۱ میں انتخاب اور اس کا باب ۴۳ میں اعادہ بتاتا ہے کہ یہ تمام ابواب ایک خاص موضوع مماثلت و موازنہ سے ہی متعلق ہیں اور ان میں یہی مرکزی نقطہ مد نظر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے بھی خلافت کا سلسلہ علی منہاج نبوت جاری ہوگا۔اس سے باب ۴۳ کا باب ۴۲ سے قریب ترین تعلق بھی واضح ہو جاتا ہے کہ موعودہ بعثت کا زمانہ وہ ہوگا جب امت محمد یہ مضمحل اور تختہ مشق بلا و مصیبت ہوگی۔معنونہ آیات (۲ تا ۸) کا ترجمہ یہ ہے: (اس سورۃ میں ) تیرے رب کی ( اس ) رحمت کا ذکر ( ہے ) جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (اس وقت) کی جب اس نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا اور کہا: اے میرے رب ! میری حالت تو یقینا ایسی ہے (کہ) میری تمام ہڈیاں تک کمزور ہوگئی ہیں اور (میرا) سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے اور اے میرے رب ! میں کبھی بھی تجھ سے دعائیں مانگنے کی وجہ سے ناکام ( نامراد ) نہیں رہا اور میں یقینا اپنے رشتہ داروں سے اپنے (مرنے کے ) بعد ( کے سلوک سے ) ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک مددگار دوست (یعنی بیٹا ) عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب ( سے جو دین و تقویٰ ہم کو ورثہ میں ملا ہے اس ) کا بھی وارث ہو اور اے میرے رب! اس کو (اپنا) پسندیدہ (وجود) بنائیو۔( اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ذکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش کن خبر دیتے ہیں (جو جوانی کی عمر تک پہنچے گا اور ) اس کا نام ( خدا کی طرف سے ) بھی ہوگا۔ہم نے کسی کو اس نام سے پہلے یاد نہیں کیا۔مذکورہ بالا آیات میں سے صرف دو لفظوں کی شرح بیان کی گئی ہے جس سے ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔سَمِيًّا کے معنی مثلا یعنی مثیل ، مشابہ۔سمٹی کے یہ معنی حضرت ابن عباس سے بسند عکرمہ حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں نقل کئے ہیں اور ابن ابی حاتم نے بسند علی بن ابی طلحہ۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۷۰) فقره لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا سلبی ہے۔یعنی اس سے حضرت یحییٰ علیہ السلام سے قبل ان کا ہم نام یا مثیل پیدا کئے جانے کی نفی ہے لیکن اس میں آئندہ کی نفی نہیں بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت کی علیہ السلام کے مثیل آئندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کئے جائیں گے۔رَضِيًّا کے معنی ہیں مَرضِيًّا، تَرْضَاهُ أَنْتَ وَعِبَادَكَ - اے رب جسے تو اور تیرے پرستار پسند کریں یعنی یہ جانشین انتخابی قسم کے نہ ہوں گے جنہیں عام لوگ چنیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ نظر اور اس کے انتخاب سے منتخب ہوں گے۔مذکورہ بالا شرح کے علاوہ معنونہ آیات میں مندرجہ ذیل حصے نمایاں کئے گئے ہیں: -1 قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغُتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا۔ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا (مریم: ۹ تا ۱۱) اس حصہ آیات میں سے لفظ سویا کے معنی صحیح یعنی با صحت و تندرستی نقل کر کے تین صدیوں