صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 397
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حَفِيَّا (مريم: ٤٨) لَطِيفًا عَاقِرًا (مریم: 9) حَفِيًّا کے لفظ کے معنی ہیں مہربان۔عاقرا کے معنی ہیں الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ۔بانجھ ، عورت و مرد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔٣٤٣٠: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ :۳۴۳۰ پر بہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بن سکی نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ عَنْ مَالِكِ بْنِ نے حضرت انس بن مالک سے، حضرت انس نے صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت کی کہ نبی وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةٍ أُسْرِيَ بِهِ ثُمَّ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کا حال بیان صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ کیا جس رات آپ کو اسراء ہوا۔فرمایا: پھر جبریل اوپر گئے۔یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور فَاسْتَفْتَحَ قِيْلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ دروازہ کھولنے کے لئے کہا: پوچھا گیا: کون ہیں؟ قِيْلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيْلَ وَقَدْ انہوں نے کہا: جبریل۔پوچھا گیا: اور تمہارے ساتھ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد۔پوچھا گیا: کیا ان کو يَحْيَى وَعِيْسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ قَالَ بلا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔جب میں پہنچا هَذَا يَحْيَى وَعِيْسَى فَسَلّمْ عَلَيْهِمَا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ یحی و عیسی ہیں اور وہ دونوں فَسَلَّمْتُ فَرَدًا ثُمَّ قَالَا مَرْحَبًا بِالْأَخ خالہ زاد بھائی ہیں۔جبریل نے کہا: یہ سچی اور عیسی ہیں۔ان کو سلام کہو۔چنانچہ میں نے سلام کیا اور ان الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ۔اطرافه ۳۲۰۷، ۳۳۹۳، ۱۳۸۸۷ دونوں نے جواب دیا۔پھر ان دونوں نے کہا: خوشی سے آئیں نیک بھائی اور نیک نبی۔تشریح : ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكريا۔۔۔سورۃ مریم کی ابتدائی آیات سے متعلق شرح باب ا۲ میں دیکھئے۔سورۃ مریم کا آغاز اس مضمون سے ہوا ہے کہ تیرے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جس کے ذریعہ سے مایوس کن حالت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا تدارک حضرت زکریا، حضرت سچی اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو مبعوث کر کے فرمایا گیا۔یہ آغاز واضح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت بڑی بشارت کا