صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 396
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۶ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء طرف اپنے قارئین کی توجہ منعطف کرانا چاہتے ہیں جو امر بعثت امت کی تعزیز و تقویت کا باعث ہو، اس میں ہتک کیا؟ ہتک تو اس بات میں ہے کہ غیر امتی نبی کی آمد سے آپ کی ختم نبوت والی مہر توڑی جائے اور امت محمدیہ ہر خیر و برکت سے محروم اور اپنی اصلاح کے لئے غیر کی محتاج سمجھی جائے !! بَاب ٤٣ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّاهِ إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيَّاهِ قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا إِلَى قَوْلِهِ لَمْ نَجْعَلْ لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيَّان (مريم: ۳-۸) اللہ کا تعالی کا یہ فرمانا: یہ ذکر اس رحمت کا ہے جو تیرے رب کی اس کے بندے ذکر یا پر ہوئی جب اس نے اپنے رب کو چپکے سے پکارا۔کہا : اے میرے رب ! میری تو ہڈیاں بھی بوسیدہ اور کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا ہے۔ہم نے کسی کو اس نام سے پہلے یاد نہیں کیا۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثَلًا يُقَالُ حضرت ابن عباس نے کہا: سَمِيًّا کے معنی ہیں مثیل رَضِيًّا (مريم: ٧) مَرْضِيًّا عِتِيًّا (مریم: ۹) اور رَضِيًّا کے معنی ہیں پسندیدہ۔عِتِيًّا اور عَصِيًّا کا۔عَصِيًّا، عَتَا يَعْتُوْ قَالَ رَبِّ آتی ایک ہی مفہوم ہے۔عِتِيًّا، عَتَا يَعْتُو سے ہے جس کے معنی بہت بوڑھا ہونے کے ہیں۔انہوں نے کہا: يَكُونُ لِي غُلَمُ إِلَى قَوْلِهِ ثَلُثَ لَيَالٍ سَوِيًّا (مریم: ۹-۱۱) وَيُقَالُ اے میرے رب ! میرے لئے بچہ کیونکر ہوگا تیرا نشان یہ ہے کہ تو لوگوں سے مسلسل تین راتوں تک کلام صَحِيْحًا۔فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ نہ کرے۔سویا کے معنی تندرست صحیح و سالم رہے گا۔مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمُ و محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا۔اشارہ سے کہا کہ صبح وشام اللہ کی تسبیح کرو۔فَأَوْحَى فَأَوْحَى فَأَشَارَ يُيَى خُذِ کے معنی ہیں اس نے اشارہ کیا۔(اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ) الكتب بِقُوَّةٍ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَ اے کي ! تو (الہی ) کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔۔۔اور جب وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا (تب بھی يُبْعَثُ حَيًّا (مريم: ١٢-١٦) اس پر سلامتی ہوگی۔)