صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 395 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 395

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۵ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء تشريح : وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ : سورۃ لیس کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بطور تمثیل بستی والوں کی تکذیب کا ذکر ہے۔ضرب المثل میں کسی خاص بستی اور تین رسولوں کی تحقیق و نامزدگی خارج از بحث ہے اور امام بخاری نے آیت کا حوالہ دے کر باب کے تحت کوئی روایت نقل نہیں کی جس سے ظاہر ہے کہ تفاسیر میں جن کمزور روایات کی بنا پر انطاکیہ شہر اور یوشع بن نون اور یسین کے ذریعہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہما السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کئے جانے کا ذکر وارد ہوا ہے، وہ امام موصوف کے نزدیک نظر انداز کرنے کے قابل ہیں۔بعض روایتوں میں صادق ، صدوق اور شلوم نام کے رسول مذکور ہیں۔حتی کہ شمعون، یوحنا اور بولص (پولوس) کا نام بھی ہے۔یہ سب روایات ضعیف ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۶۹) امام موصوف نے معنو نہ آیات سے صرف لفظ فَعَزَزْنَا اور طَائِرُ كُم نمایاں کر کے اس کی شرح شَدَّدُنَا اور مَصَائِبُكُمُ سے کی ہے یعنی مضبوط کیا اور تمہاری مصیبتیں۔ان سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ شارع نبی کی مدد تابع نبی سے اس وقت ہوتی ہے جب قوم مصائب میں مبتلا ہو اور شریعت متروک ہو۔اس وقت تابع نبی کی بعثت امت کے لئے بطور رحمت ہوتی ہے۔جس سے کمزوری کے بعد وہ طاقت حاصل کرتی ہے۔یہی امرِ وَاضْرِبُ لَهُمْ مَثَلًا أَصْحَبَ الْقُرْيَةِ سے تمثیلاً واضح کیا گیا ہے اور امام بخاری نے لفظ شَدَّدُنَا سے اسے نمایاں کیا ہے۔طَائِرُكُمْ مَصَائِبُكُمْ) سے یہ آیت مراد ہے : قَالُوا طَائِرُ كُم مَّعَكُمْ۔۔۔۔(یس (۲۰) انہوں نے کہا کہ تمہارا عمل تو تمہارے ساتھ ہے۔( تم جہاں بھی ہو گے تمہارے عملوں کا بد نتیجہ نکلتا رہے گا) کیا تم یہ بات اس لئے کہتے ہو کہ ہم تم کو اچھے کام یاد دلاتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ تم حد سے گزرنے والی قوم ہو۔(اس لئے لاز ناسزا پاؤ گے۔) اس آیت سے پہلے یہ ہے کہ جب رسولوں نے اپنی قوموں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہم اسی کے فرستادہ ہیں جو اس کا حکم تمہیں پہنچانے کے لئے آئے ہیں اور ہمارا کام تو صرف پہنچاتا ہے۔تو انہوں نے کہا: إِنَّا تَطَيَّرُنَا بِكُمْ تمہاری یہ آمد ہمارے لئے بڑی منحوس ہے کہ مصائب میں مبتلا ہیں۔اگر اپنی وعظ ونصیحت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کریں گے اور دردناک سزا دیں گے۔رسولوں نے انہیں جواب دیا کہ تمہاری بد عملی ہی تمہاری بدشگونی کا اصل باعث ہے نہ کہ ہماری آمد - (یاس : ۱۸ تا ۲۰) غرض ان آیات کا مطلب صاف ہے اور ان کا جواب ابواب استخلاف سے بر حل یعنی اُمتی اور تابع نبی کی بعثت شارع نبی کی شان کے خلاف نہیں بلکہ اس کی شان کو قوت دینے والی ہوتی ہے اور یہ تابع نبی ایسے وقت میں مبعوث ہوتا ہے جو شارع نبی کی امت ضعف و اضمحلال سے دو چار اور محتاج امداد ربانی ہو۔جو لوگ امت محمدیہ میں سے مسیح موعود کی بعثت کو موجب تک رسول سے سمجھتے ہیں اور مسیح اسرائیکی سے متعلق نزول کا عقیدہ فیوض و برکات محمدیہ کی شان جاوید کے خلاف نہیں سمجھتے وہ باب ۴۲ کے عنوان اور امام بخاری کے مذکورہ بالا تبصرہ پر ذرہ غور فرمائیں کہ وہ کس نکتہ معرفت کی