صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 394
صحيح البخاری جلد 4 ۳۹۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء بھی زمرہ انبیاء اور الْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَةً کی صف میں شامل ہیں۔یادر ہے کہ قطع نظر اس سے کہ کوئی رسول و نبی عبرانی الاصل یا عربی النسل یا اجنبی النسل اور غیر قوم میں سے ہو، اسلام نے اسے اپنا یا ہے اور ان میں تمیز نہیں کی۔ط فرماتا ہے: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ لَّمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ۔وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ ) (المؤمن: (۷۹) اور ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے تھے۔بعض کا ذکر ہم نے تیرے سامنے کر دیا ہے اور بعض کا ذکر ہم نے تیرے سامنے نہیں کیا اور کسی رسول کی یہ طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی کلام لے آئے اور جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والے لوگ گھاٹے میں پڑ جاتے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ جن رسولوں کا ذکر قرآن مجید میں نہیں وہ بھی جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ میں شامل اور قابل تسلیم و اقتداء ہیں۔امام بخاری نے یہی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے سورۃ لقمان کے دوسرے رکوع کی آیات میں سے وَلَا تُصَغِرُ کو نمایاں کر کے اس کے مفہوم (الْإِعْرَاضُ بِالْوَجْهِ) روگردانی کی طرف توجہ منعطف کی ہے کہ غیر مذکورہ انبیاء بھی قبول کئے جائیں اور ان سے اس لئے منہ نہ پھیرا جائے کہ وہ غیر اقوام کے رسول ہیں۔الفاظ لَا تُصَعِرُ گوصیغہ نہیں ہے لیکن اس میں اثبات کا مفہوم مضمر ہے۔وَلَا تُصَغِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (لقمان: ۱۹) اور لوگوں سے روگردانی نہ کر یعنی ان سے خندہ پیشانی سے مل۔وَلَا تَمْشِ فِى الْأَرْضِ مَرَحًا (لقمان: (۱۹) اور زمین میں تکبر سے مت چل یعنی فروتنی اختیار کر۔غرض آیت لَا تُصَغر کی شرح زیر عنوان بلا وجہ نہیں۔یہی ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ تمام رسولوں کو با تمیز مانا جائے۔لا تُصوّر کی مذکورہ بالا تفسیر طبری نے عکرمہ سے نقل کی ہے اور انہوں نے ہی بسند علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس س لا تتكبرُ عَلَيْهِم نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ تصغير (باب تفعیل ) صعو سے ہے جو اونٹ کی بیماری ہے جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے۔متکبر انسان بالعموم منہ پھلا کے گردن موڑے رکھتا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۶۹ ) روایت زیر باب دوسندوں سے مروی ہے اور اس میں سورۃ الانعام کی آیت کے حوالہ سے آیت إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِیم کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔اس کی شرح کے لئے دیکھئے کتاب التفسير، سورة الأنعام، باب۳۔بَاب ٤٢ : وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا أَصْحُبَ الْقَرْيَةِ الْآيَةَ (يَسَ : ١٤) ( یہ جو فرمایا: ) اور تو ان کے سامنے ایک گاؤں والوں کی حالت بیان کر۔۔۔فَعَزَّزُنَا (يس: ١٥) قَالَ مُجَاهِدٌ (یہ جو فرمایا: فَعَزَّزُنَا مجاہد نے کہا: اس کے معنی ہیں شَدَّدْنَا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ طَابِرُكُمْ ہم نے اس کو مضبوط کیا۔( یہ جو آیا ہے: ) طَائِرُ كُمُ (يس: ٢٠) مَصَائِبُكُمْ۔مَعَكُمُ اس کے معنی ہیں تمہاری مصیبتیں تمہارے ہی ساتھ ہیں۔