صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 393
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۳ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء أمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل شَقَّ ذَلِكَ عَلَى المُسْلِمِيْنَ فَقَالُوا يَا ہوئی: جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے رَسُوْلَ اللهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا۔مسلمانوں پر شاق گزرا لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشَّرْكُ أَلَمْ اور انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون تَسْمَعُوْا مَا قَالَ نُقْمَنُ لِابْنِهِ وَهُوَ ایسا ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: یہ مراد نہیں یہ تو صرف شرک ہے۔کیا تم نے يَعِظُهُ يُبْنَى لَا تُشْرِكْ بِاللهِ اِنَّ نہیں سنا جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جبکہ وہ اس کو الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) نصیحت کر رہے تھے۔اے میرے بیٹے ! اللہ کا شریک مت ٹھہرا کیونکہ شرک یقینا بہت بڑا گناہ ہے۔اطرافه ،۳۲، ٣٣٦٠، ٣٤٢٨ ٤٦٢٩ ٤٧٧٦ ٦٩١٨، ٦٩٣٧۔تشریح: وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ: حضرت لقمان علیہ السلام دانشوران زمانہ قدیم میں سے تھے اور -------- وہ سامی نژاد اہل شیہ (شمالی مصر) میں سے تھے۔یورپین محققین نے انہیں اساطیر کی اشخاص میں شمار کیا ہے جو تعصب یا جہالت ہے۔ورنہ زمانہ جاہلیت کے عربی اشعار و حکایات وغیرہ اور اوائل اسلام میں ان کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور ان کی طرف حکمت و دانائی کی باتیں منسوب کی جاتی ہیں۔ہر قوم و ملت میں ایسے اشخاص اور ان کے پر حکمت کلام کا ذکر بطور ضرب المثل ملتا ہے۔جن کے حالات تاریخ نے تو قلم بند نہیں کئے مگر قوم نے ان کی قدر کی اور اس کے حافظہ نے انہیں محفوظ رکھا ہے۔قرآن مجید میں لقمان نام کی سورۃ ہے جس میں انہیں حکمت و دانائی دیئے جانے کا ذکر معنونہ الفاظ باب سے شروع ہوتا ہے اور یہ سرنامہ الفاظ وہی ہیں جن سے حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہما السلام کا ذکر شروع ہوتا ہے اور ان کی جو تعلیم سورۃ لقمان کے دوسرے رکوع میں بیان ہوئی ہے وہ توحید باری تعالی ، محبت و اطاعت و عبادت الہی پر مشتمل اور شرک کے خلاف ہے اور اس کے علاوہ والدین سے خواہ مشرک ہی ہوں نیک سلوک اور دیگر پسندیدہ آداب معاشرہ کی تلقین اور ناپسندیدہ باتوں کی ممانعت سے متعلق ہے جو آیت وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوتُ الْحَمِيرِه (لقمان: ۲۰) تک ہے۔یعنی حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا کہ اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو دھیما رکھا کر ( کیونکہ ) آوازوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ آواز گدھے کی آواز ہے جو بہت اونچی ہوتی ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں صرف پہلی دو آیتوں پر اکتفا کیا ہے۔ان آیتوں کا ذکر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے ذکر کے تسلسل میں دلالت کرتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک حضرت لقمان علیہ السلام