صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 391 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 391

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۱ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ہو سکا مگر اس کے برعکس شرک کا خاتمہ اور توحید کا قیام بعثت محمد یہ اور اس کی خلافت کے لئے مقدر ہے۔یہ وہ موضوع ہے جس کے لئے باب ۴۰ کی روایت نمبر ۳۴۲۶ میں یمنی ٹکڑہ حدیث لایا گیا ہے جو دور سے کوڑی لانے والی بات ہے۔یہ امر کہ آخری روایت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جس فیصلہ کا ذکر ہے اس کا وجود اسرائیلی روایات میں موجود ہے یا نہیں؟ سو اس تعلق میں دیکھئے سلاطین اول باب ۳ جس میں نہ صرف یہ واقعہ مذکور ہے بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر ہے کہ انہیں اپنی قوم کا انصاف کرنے کے لئے سمجھنے والا دل عنایت کیا جائے جو خارق عادت صورت میں قبول ہوئی۔سلاطین کے اس باب میں حضرت داؤد علیہ السلام کے فیصلہ کا ذکر نہیں اور نہ بھیڑیے کا ذکر۔باقی قصہ بعینہ موجود ہے۔واقعہ جو روایت میں بیان ہوا ہے اس کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں۔جیسا کہ الفاظ وَقَالَ كَانَتِ امْرَأَتَانِ سے ظاہر ہے۔امام ابن حجر نے لکھا ہے: لَيْسَ فِي سِيَاقِ الْبُخَارِي تَصْرِيحٌ بِرَفْعِهِ۔صحیح بخاری کے سیاق کلام میں تصریح نہیں کہ حضرت ابو ہریرۃا نے اسے مرفوعا بیان کیا ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بلفظ نقل کیا ہے۔لیکن ابوالیمان راوی کی ہی سند سے کتاب الفرائض باب ۳۰ میں یہ حدیث مرفوع نقل کی گئی ہے، دیکھئے روایت نمبر ۶۷۶۹۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۶۶) حضرت ابو ہریرہ تک راوی، تبع تابعین اور تابعین ہیں اور روایت ممکن ہے۔اس لئے بعید نہیں کہ کچھ تبدیلی بعد کے راویوں سے ہوئی ہو۔لیکن بلحاظ نفس مضمون وسند کے یہ روایت صحیح ہے۔سورۃ الانبیاء آیات ۷۹، ۸۰ میں ایک متنازعہ حرت (کھیتی) کا ذکر ہے۔جس کی نسبت بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق حضرت داؤ داور حضرت سلیمان علیہما السلام دونوں کے ساتھ تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی سمجھ دی گئی جو انہوں نے حل کر لیا۔اس نزاع کا تعلق مذکورہ بالا واقعہ سے نہیں جو انفرادی نوعیت کا ہے۔سورۃ الانبیاء والا واقعہ نزاع قومی ہے۔(اذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَسَمُ الْقَوْمِ قوم کی بکریاں کھیتی چرگئیں۔غَسَمُ الْقَوْمِ بطور استعارہ وارد ہوا ہے اور اس سے ہمسایہ ملک کی رعایا مراد ہے جنہوں نے مملکت یہود کو اپنی یلغاروں سے دہشت زدہ کر دیا تھا۔حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد میں ان کا مقابلہ شروع ہوا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں وہ مغلوب ہوئیں۔اس لئے اگر کسی بعد کے راوی کا ذہن فَفَهُمُنَهَا سُلَيْمَنَ سے اس طرف منتقل ہوا ہے کہ باپ کو جو بات سمجھ نہیں آئی وہ بیٹے کو آگئی تو خلط مبحث ہوگا۔کیونکہ حضرت داؤد علیہ السلام کے عدم فہم کا محولہ بالا آیت میں ذکر نہیں۔بلکہ فَهُمُنَا (هَا کی شد) سے بتایا گیا ہے کہ جس بات کا فیصلہ حضرت داؤد علیہ السلام نے کیا تھا کہ مملکت یہودا کا امن بحال نہیں ہو سکتا جب تک ہمسایہ قومیں مغلوب نہ ہوں اس کی تکمیل حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں سے ہوئی۔وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا دونوں اس بارے میں حکمت و علم دیئے گئے تھے۔مملکت کی بنیا دیں اول الذکر کے ذریعہ سے اٹھائی گئی تھیں اور اسے وسعت و عظمت ثانی الذکر کے ذریعہ سے حاصل ہوئی۔ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے منصب فرضی کے اعتبار سے ممتاز تھا۔ایسی فضیلت تو قابل ستائش و مدح ہے نہ جائے مذمت و اعتراض۔