صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 390 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 390

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۹۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے قوت استدلال سے بآسانی معلوم کر لیا کہ دراصل بچہ چھوٹی عورت کا ہے۔حالانکہ حضرت داؤد علیہ السلام نہ صرف باپ اور عالی مقام او العزم نبی بلکہ بانی مملکت یہودا تھے۔موضوع ابواب (موازنہ و مقابلہ ) کے تعلق میں حدیث کے دوسرے حصے سے یہ بتایا گیا ہے کہ تابع نبی اور جانشین بسا اوقات بعض امور میں نبی متبوع سے ممتاز ہوسکتا ہے اور یہ فضیلت جزوی متبوع کی شان و عظمت کے خلاف نہیں بلکہ اسے بڑھانے والی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت سلیمان کے ہاتھوں سے ان کے باپ کی مملکت نے بہت بڑی وسعت اختیار کی۔لیکن ان کے جانشین رحعام کے عہد میں اس کی کمزوری کی وجہ سے پارہ پارہ ہوگئی اور وہ اپنے دشمنوں کو مغلوب نہ کر سکا۔یہ خلاصہ ہے باب ۴۰ کی روایتوں کا اور اس تعلق میں ابوالیمان کی سند سے حضرت ابو ہریرہ کی روایت ( نمبر ۳۴۲۶) ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے متعلق ہے اور كَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَوْقَدَ نَارًا کی جو مثال اس میں بیان کی گئی، قرآنِ مجید میں یہ مثال سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع میں وارد ہوئی ہے اور اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مشرکوں اور کافروں کے انجام بد کا ذکر ہے کہ وہ اس آگ میں بھسم ہو جائیں گے جو آپ کے خلاف بھڑکائی جائے گی۔چنانچہ وہ جنگ کی آگ تھی جو اوائل بعثت محمد یہ اور اس کی خلافت اولی کے عہد میں بھڑ کائی گئی تھی اور جو اس کا انجام ہوا، وہ تاریخ کا علم رکھنے والوں کو معلوم ہے اور دوسری آگ فتنہ دجال والی ہے جس کے ظہور و انجام کی پیشگوئی نہ صرف قرآنِ مجید کی سورة تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ وغیرھا میں ہے۔بلکہ احادیث میں بھی بالوضاحت ہے جن میں سے ایک حدیث باب ۴۰ والی ہے جس میں مَثَلِی وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ کی تمثیل بیان ہوئی ہے۔امام ابن حجر وامام نووی وغیرہ شارحین حدیث نے اس کا مفہوم بایں الفاظ بیان کیا ہے: مَقْصُودُ الْحَدِيثِ أَنَّهُ اللهُ شَبَّهَ الْمُخَالِفِيْنَ لَهُ بِالْفَرَاشِ وَتَسَاقُطِهِمْ فِي نَارِ الْآخِرَةِ بِتَسَاقُطِ الْفَرَاشِ فِي نَارِ الدُّنْيَا مَعَ حِرْصِهِمْ عَلَى الْوُقُوعِ فِي ذلِكَ وَمَنعِهِ إِيَّاهُمُ۔وَالْجَامِعُ بَيْنَهُمَا اِتِّبَاعُ الْهَوَى وَضَعْفُ المُبِيرِ وَحِرْصُ كُلَّ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ عَلَى هَلَاكِ نَفْسِه - قاضی علامہ ابوبکر بن العربی کو بھی مذکورہ بالا مفہوم کی نسبت اتفاق ہے بلکہ ان کی رائے ہے: هَذَا مَثَلٌ كَثِيرُ الْمَعَانِی که به تمثیل محدود معنوں میں نہیں بلکہ بہت معانی پر مشتمل ہے۔امام غزالی بھی اس سے متفق ہیں اور ان کا قول ہے: التَّمْثِيلُ وَقَعَ عَلَى صُورَةِ الْإِكْبَابِ عَلَى الشَّهَوَاتِ مِنَ الْإِنْسَانِ بِإِكْبَابِ الْفِرَاشِ عَلَى السَّهَافُتِ في النَّارِ۔اور اس پر اضافہ یہ فرمایا ہے کہ آدمی کی جہالت پروانہ، پتنگ ، ٹڈی وغیرہ حشرات الارض سے بڑھ کر ہے کہ ان کا عذاب تو اس آگ میں جل کر ختم ہو جاتا ہے لیکن ان کے برعکس انسان کے حرص و ہوا اور طمع و شہوت کی آگ اُسے اُخروی آگ تک لے جاتی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۲۶،۵۶۵) مذکورہ بالا شرح تمثیل سے ظاہر ہے کہ ان ابواب کا دراصل موضوع موازنہ ہے۔ان میں بتایا گیا ہے کہ بعثت موسویہ اور اس کی خلافت کا انجام سب کو معلوم ہے۔کفر و شرک کا استیصال ان کے ذریعہ محدود دائرہ میں اور ایک محدود حد تک