صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 389
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۸۹ ۶۰- کتاب احاديث الأنبياء وغیرہ کے شاہان نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے تعلقات حرم و حریم پیدا کئے۔اس جہت سے روایت نمبر ۳۴۲۴ صحیح ہے اور واقعات سے رحبعام بن سلیمان کی عدم قابلیت سے متعلق تصدیق ہو چکی ہے۔اس لئے نہ سند روایت کے اعتبار سے یہ روایت کمز رہے اور نہ درایت کے اعتبار سے۔البتہ چونکہ روایت زیر باب بالعموم متمکن ہی مروی ہے اس لئے غالب قیاس یہی ہے کہ راوی کے الفاظ کا ہی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔باب کی تیسری روایت حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ کی ہے اور مککن ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ظاہر ہے کہ ان کے مسجد حرام (بیت اللہ اور مسجد اقصیٰ کے درمیان فرق سے متعلق استفسار کا منشاء یہ تھا کہ ان میں نمازیں پڑھنے کی فضیلت و ثواب کتنا ہے۔آپ نے چالیس (سال) بتا کر اس غلط فہمی کا تدارک فرما دیا کہ اصل ثواب تو ہر وقت حکم کی اطاعت سے ہے نہ جگہ سے، ساری زمین ہی میری امت کے لئے پاک ہے۔جہاں نماز کا وقت آئے پڑھ لی جائے۔مسجد ہو یا غیر مسجد۔سابقہ امتیں تو مخصوص عبادت گاہوں پر ہی انحصار رکھتی تھیں لیکن امت محمدیہ کو ادائے فریضہ عبادت میں سہولت دی گئی ہے اور اس میں اس امت کو ان پر فضیلت حاصل ہے کہ وہ عبادت میں کسی خاص جگہ کی پابند اور ذکر الہی کے لئے محدود نہیں کی گئی۔اس فضیات کے تعلق میں دیکھئے کتاب التیمم تشریح روایت نمبر ۳۳۵۔اس روایت سے بھی ظاہر ہے کہ ابواب زیر شرح کا موضوع در حقیقت موازنہ ہی ہے جیسا کہ آگے یہ امر زیادہ سے زیادہ واضح اور نمایاں ہوتا جائے گا۔روایت نمبر ۳۲۲۶ کتاب الرقاق روایت نمبر ۶۴۸۳ میں اسی سند سے مروی ہے۔اس روایت میں صرف تمثیل مذکورہ بالا ہی ہے۔حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے فیصلہ کا ذکر نہیں جو اسی سند سے ایک لمبی روایت کا حصہ ہے۔امام ابن حجر نے کتاب الوضوء روایت نمبر ۲۳۸، ۲۳۹ و کتاب الجمعہ روایت نمبر ۸۷۶ د کتاب الدیات روایت نمبر ۶۸۸۷، ۶۸۸۸ و کتاب الفرائض روایت نمبر ۶۷۶۹ سے امام بخاری کے اس قسم کے تصرف کی مثالیں دی ہیں جو بظاہر نفس موضوع کے لحاظ سے بے جوڑ معلوم ہوتی ہیں۔لیکن انہیں اکٹھا بیان کرنے میں کوئی نہ کوئی غرض ان کے مد نظر ہوتی ہے۔مثلا کتاب الوضوء روایت نمبر ۲۳۸، ۲۳۹ میں مذکورہ بالا سند ہی سے دو الگ الگ روایتیں اکٹھی نقل کی گئی ہیں۔یعنی حديث نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ جو کتاب الانبیاء میں زیر باب ۵۴ مذکور ہے اور وہاں لا يَسُولُنَّ والی حدیث مذکور نہیں۔کیونکہ اس سے متعلق روایت علیحدہ ہے۔گوسند روایت حضرت ابوہریرہ ہی کی ہے اور انہی کی سند سے کتاب الجہاد میں حدیث مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ الله سے قبل حديث نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بھی مروی ہے۔(دیکھئے باب ۱۰۹ روایت نمبر ۲۹۵۶) غرض کسی نہ کسی تعلق کی وجہ سے صحیح بخاری کی متعدد جگہوں میں یہ تصرف پایا جاتا ہے۔جیسا کہ یہاں باب ۴۰ کی آخر میں دو مختلف روایتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ان میں سے حضرت سلیمان علیہ السلام کے فیصلہ والی روایت کا تعلق تو بظا ہر نظر باب سے واضح ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوت محاکمہ میں اپنے والد حضرت داؤدعلیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔انہوں نے شہادت کی عدم موجودگی میں صرف قبضہ کی بناء پر بڑی عورت کے پاس بچہ رہنے کا فیصلہ کیا