صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 388
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء آیا مذکورہ بلا روایات کا منبع و مصدر اسرائیلی روایات ہیں، اس کے لئے دیکھئے سلاطین اول کا باب !! جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: 11 اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی، عمونی، ارومی، صیدانی اور حتی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں۔کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کرلیں گی۔سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اور تین سوحر میں تھیں اور اس کی بیویوں نے اس کے دل کو پھیر دیا۔“ ( سلاطین اول باب ۱۱ آیات اتا۴ ) سیہ وہ الزام ہے جس کی اشاعت سے بنی اسرائیل کو حضرت سلیمان کے خلاف بھڑکا یا گیا۔سر بعام کی عداوت تو مشہور ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ ہی میں ظاہر ہوگئی تھی اور اس نے فلسطین سے بھاگ کر مصر وغیرہ میں پناہ لی تھی اور ان کی وفات کے بعد رحعام کے ساتھ عہد وفاداری قائم کرنے کے لئے لوٹ آیا۔مگر در پردہ حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہا السلام کے خاندان کے ساتھ اس کی عداوت ویسی ہی تھی۔اس تعلق میں دیکھیں تو اریخ دوم باب ۱۱،۱۰۔اور سلاطین اول بابا ہی میں دیگر سرداران بنی اسرائیل کی بغاوت اور ان کے راہ فرار اختیار کرنے اور دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کا ذکر ہے۔جن میں اردومی سردار ہود کا نام بھی ہے کہ وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کا مخالف تھا۔اسی قسم کی مخالفت ان بے ہودہ قصے کہانیوں کا چر چا دینے کا باعث ہوئیں۔جنہیں بعض نا واقف حال مفسرین و شارحین نے اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے۔یہی باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی سنی سنائی جاتی تھیں۔آپ نے کثرت ازدواج کا اصل باعث جہاد فی سبیل اللہ سے متعلق حضرت سلیمان علیہ السلام کی نیت صالحہ بتائی کہ ان کے اپنے بیٹے ان کی اس میں مدد کریں گے اور ان پر اعتماد کیا جاسکے گا۔یہ خیال در اصل مقام تو کل کے اسی طرح منافی ثابت ہوا جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کا مردم شماری کرنے پر اپنی کثرت تعداد کا خیال۔دونوں خیال ایک ہی نوعیت کے ہیں۔کامیابی و ناکامی کا دارومدار کثرت وقلت پر نہیں بلکہ الہی نصرت و فضل پر ہے۔یہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت مذکور بالا سے صحابہ کے ذہن نشین فرمائی ہے اور آپ کے صحابہ کرام جب تک زندہ رہے اسی نقطہ توحید پر قائم وعمل پیرا رہے۔قدیم زمانہ میں ( بلکہ اب بھی ) مصاہرت ( تعلق دامادی) کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔مفتوحہ ممالک کے بادشاہ خواہش رکھتے تھے کہ فاتح گھرانے کے ساتھ تعلق مصاہرت قائم ہو، تا ہر قسم کے خدشات سے مامون ومحفوظ رہیں۔فاتح کو بھی یقین ہو جائے کہ کوئی باعث عداوت باقی نہیں رہا۔عہد نامہ قدیم کے صحیفوں سے ظاہر ہے کہ ہمسایہ اقوام مصر و عراق