صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 387
صحيح البخاری جلد ٦ MAL ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء مذکورہ بالا الفاظ کی شرح کے بعد پانچ روایتیں درج ہیں۔پہلی روایت کی شرح کتاب الصلاة باب ۷۵ میں ملاحظہ ہو۔ایک نئی سند سے یہاں اس کا تکرار ہے۔دوسری روایت بھی حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے اور روایت کتاب الجھاد باب ۲۳ میں گزر چکی ہے اور کتاب الایمان والنذور روایت نمبر ۶۶۳۹ میں بھی آئے گی۔اس کے راوی متعدد ہیں اور بیویوں کی تعداد روایات میں مختلف بیان ہوئی ہے۔روایت نمبر ۳۴۲۴ میں ستر بیویوں کا ذکر ہے اور یہی روایت ایک اور طریق سے سفیان بن عیینہ نے ابوالزناد سے کتاب كفارة الايمان روایت نمبر ۶۷۲۰ میں نقل کی ہے۔امام مسلم لے نے بھی بروایت ابن ابی عمر، سفیان سے یہی نقل کیا ہے۔ابن حبان کے نے ابوالزناد سے سو عورتوں اور نسائی سے نے نوے عورتوں سے نکاح کرنے کا ذکر کیا ہے۔طاؤس نے بواسطہ معمر حضرت ابو ہریرہ سے یہی تعداد بیان کی ہے۔امام احمد بن حنبل نے طاؤس سے بروایت عبدالرزاق سو اور امام مسلم نے ستر تعداد نقل کی ہےلے اور بخاری کتاب التوحید روایت نمبر ۷۴۶۹ میں منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساتھ بیویاں تھیں۔یہ روایت ابن سیرین کی ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہی ہیں۔اور امام احمد بن حنبل اور ابو عوانہ نے اسی سند میں سو عورتوں کا ذکر کیا ہے ے اور بسند جعفر بن ربیعہ ابن سیرین کی روایت کتاب الجہاد میں گزر چکی ہے کہ ان کی سو یا ننانوے جو روئیں تھیں۔( روایت نمبر ۲۸۱۹) امام ابن حجر نے متعد د سند میں نقل کر کے خلاصہ یہ دیا ہے کہ تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ساٹھ ستر نوے، نانوے، یک صد۔ان میں بعض آزاد گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور بعض دستور زمانہ کے مطابق کنیزیں تھیں۔لیکن ستر کا عدد مبالغہ یعنی کثرت پر دلالت کرتا ہے اور اکثر شارحین کی یہی رائے ہے۔اس بارہ میں بعض راویوں نے تو ایک ہزار تعداد بھی نقل کی ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے محلات کی تفصیل تک بتائی ہے کہ اتنے چوبی محل اور اتنے شیش محل جن میں تین سو شریف زادیاں اور سات سولونڈیاں تھیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۶۱) گویا انہیں عورتوں سے شغف کے سوا اور کوئی شغل ہی نہ تھا۔(نعوذ باللہ ) مذکورہ بالا مبالغہ آمیزی کا مصدر اسرائیلی روایتیں ہی ہیں جیسا کہ حضرت داؤدعلیہ السلام کے بارے میں تھیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ان روایات سے پیدا کردہ غلط فہمی دور فرمائی اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام سے متعلق بھی جیسا کہ ابھی قدرے تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔صحيح مسلم، كتاب الأيمان، باب الاستثناء) (صحيح لابن حبان ، كتاب الأيمان، ذكر الخبر الدال على أن الحالف اذا أراد أن يحلف، جزء ۱۰ صفحه ۱۸۰) (سنن النسائي، كتاب الأيمان، باب اذا حلف فقال له رجل ان شاء الله هل له استثناء) (سنن النسائي، كتاب الأيمان، باب الاستثناء) (مسند احمد بن حنبل : ، مسند المکثرین، مسند ابی هریرة، جزء۲ صفحه ۲۷۵) مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين، مسند أبي هريرة، جزء۲ صفحه ۲۲۹) (مستخرج أبي عوانة، أبواب في الأيمان، بيان ذكر الخبر المبيح للحالف إذا استثني، جزء 2 صفر ۱۰۵)