صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 386
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰- كتاب احاديث الأنبياء کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے کرتا ہوں۔یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چلے گئے۔(اس نے کہا: ) انہیں دوبارہ میرے سامنے لاؤ۔پس وہ ( ان کی ) پنڈلیوں اور گردنوں پر ( پیار سے ہاتھ پھیر نے لگا۔} (۲) الْأَصْفَاد کے معنی ہیں: الْوِثَاق بندھن یعنی طوق اور بیٹریوں میں جکڑے ہوئے جنگی قیدی۔(۳) قَالَ مُجَاهِدٌ الصَّافِئات: اصیل گھوڑے جن کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اگلی ٹانگیں جوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ایک ٹانگ کا سم زمین سے کچھ اُٹھا ہوا اسے چھو رہا ہوتا ہے۔عربی زبان میں صَفَنَ الْفَرَس کے یہی معنے ہیں کہ گھوڑا اگلائم اُٹھائے اور اس کے ناخن پر کھڑا رہے۔الجیاد، جواد کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں سبکسار، تیز رو۔نیز جواد کے معنی ہیں تھی۔جَسَدًا بمعنی شَيْطَانَا الْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيهِ ہم نے اس کے تخت حکومت پر ایک شیطان صفت بے جان انسان جانشین کیا جو جسم بلا روح تھا۔فریابی نے یہ شرح بواسطہ اور قاء اور بروایت ابن ابی نجیح مجاہد سے نقل کی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیٹا ر حجام ایک کمزور انسان تھا۔اس کے عہد میں پر بعام مملکت اسرائیل کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔دس حصے خود سنبھالے اور دو حصے رحبعام کو دیئے۔بتایا جا چکا ہے کہ یہ بعام حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں کامیاب نہیں ہوا اور کوہستانی علاقے کی طرف بھاگ گیا تھا اور ان کی وفات کے بعد واپس آیا اور سوائے دو قبیلوں (یہودا اور بن یامین ) کے باقی قبائل اسرائیل نے اس کا ساتھ دیا اور وہ ان پر حکومت کرنے لگا۔( سلاطین اول باب ۱۲ آیات ۱۸ تا ۲۰) اور ان سے بچھڑے وغیرہ معبودان باطلہ کی پرستش کروائی۔(سلاطین اول باب ۱۲ آیات ۲۸ تا ۳۱) نیز باب ۱۴ آیات ۱۵ تا ۲۴ بھی دیکھئے۔موخر الذکر حوالہ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل پر بعام کی بد تا شیر سے اپنے عقائد و کردار میں بگڑ گئے اور مشرک اقوام کی نقل کرنے لگے اور یہی القَيْنَا عَلَى كُرْسِهِ جَسَدًا کی شرح ہے۔جملہ القَی عَلَیہ میں دونوں مفہوم مقدر ہیں۔جانشین تخت اس لحاظ سے جسم بلا جان تھا کہ اپنی سلطنت سنبھال نہ سکا اور سلطنت کا دشمن جسم بلا روح تھا کہ وہ بد عقیدہ و بدر کر دار تھا۔امام بخاری نے اس تعلق میں آصف جنی وغیرہ سے متعلق روایتیں نظر انداز کر دی ہیں کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی دیکھنے کے بہانے سے سمندر میں ڈال دی تھی۔جس کی وجہ سے سلطنت حضرت داؤد علیہ السلام کے گھرانے سے ضائع ہو گئی۔رُخَاءُ طَيِّبَةً رِيحًا طَيِّبَةً۔عمده ہوا، باد موافق جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بیڑے سمندر میں دور دراز ملکوں کو سامان تجارت لے جانے اور وہاں سے لانے میں مدد دیتی تھی۔حَيْثُ أَصَابَ: حَيْثُ شَآءَ۔جہاں تجارتی سامان بھیجنا مناسب سمجھتے۔فامنن : اعْطِ یعنی دے، بِغَيْرِ حِسَابٍ: بِغَيْرِ حَرَج۔یعنی بغیر نگی محسوس کئے یا روک ٹوک۔اپنی مرضی کے موافق خرچ کرے۔مذکورہ بالا الفاظ کے یہ معانی فریابی نے مجاہد سے نقل کئے ہیں۔( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۶۰)