صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 385 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 385

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۸۵ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء جب اجنبی محکوم قوموں کو علم ہوا کہ مملکت یہودا در اصل اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے تو انہیں اس بات سے حسرت ہوئی کہ کاش انہیں اندرون خانہ کا یہ حال پہلے معلوم ہوتا تو وہ اسرائیلی جوئے سے کبھی کے آزاد ہو چکے ہوتے۔حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہم السلام کی خلافت موسویہ کے تعلق میں چوتھی آیت جس کا حُبُّ الخَیر سے حوالہ دیا گیا ہے وہ سورۃ ص کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے اور ہم نے داؤد کو سلیمان بخشا اور وہ بہت ہی اچھا بندہ تھا۔وہ خدا تعالی کی طرف بہت ہی جھکنے والا تھا۔( اور یاد کر ) جب اس کے سامنے شام کے وقت اعلیٰ درجہ کے گھوڑے پیش کئے گئے تو اس نے کہا: میں دنیا کی اچھی چیزوں سے محبت رکھتا ہوں کہ وہ مجھے میرے رب کی یاد دلاتی ہیں۔یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے اوٹ میں آگئے (اس نے کہا: ) ان کو میری طرف واپس لاؤ (جب وہ آئے تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر چھپکنے لگا اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کے تخت پر ایک بے جان جسم کو بٹھانے کا فیصلہ کیا۔( پھر جب یہ نظارہ اس نے کشف میں دیکھا تو وہ اپنے رب کی طرف جھکا اور سلیمان نے اپنے بیٹے کی حقیقت خدا سے معلوم کر کے کہا کہ اے میرے رب ! میرے عیبوں کو ڈھانک دے اور مجھ کو ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد آنے والی اولاد کو ورثہ میں نہ ملے۔تو یقیناً بڑا بخشنہار ہے اور ہم نے اس کے لئے ہوا کو خدمت پر لگا دیا جو ان کے حکم کے مطابق جدھر وہ جانا چاہتے تھے نرمی سے اسی طرف کو چلنے لگتی اسی طرح ہم نے جنوں کو یعنی ان میں سے تمام انجینئروں ، معماروں اور بعض غوطہ خوروں کو اس کی خدمت پر لگا دیا تھا اور کچھ اور لوگوں کو بھی جوز نجیروں میں بندھے رہتے تھے یہ ہماری بے حساب عطا ہے۔( یعنی ہمارے فضل سے یہ کامیاب بیڑے تجھے ملے ہیں اور تجھے سرکش قوموں پر قبضہ ملا ہے۔) پس خواہ تو ان قوموں پر احسان کر اور خواہ جتنی مناسب سختی ہو ان سے کر۔ان آیات کے بعض فقرات و الفاظ کی شرح حسب ذیل ہے: (1) إِلى أَحْيَيْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي : عَنْ حرف كامل استعمال بسبب، بوجہ یا باعث ہے۔ترک کرنے یا دوری کے معنوں میں نہیں جیسا کہ بعض مفسرین سمجھتے ہیں اور اس کی یہ تفسیر کرتے ہیں کہ گھوڑ دوڑ دیکھنے میں ان گھوڑوں نے میری عصر کی نماز ضائع کر دی ہے۔اس لئے ان کی پنڈلیاں غصے میں کانٹنے لگے۔یہ تفسیر بالکل غلط ہے۔اس لئے مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ کا مفہوم بجائے کاٹنے کے يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَعَرَاقِيْبَهَا کا ہے کہ ان کی گردنوں کے ایال اور پیٹھوں پر ہاتھ پھیر نے لگے کہ وہ گھوڑے عمدہ اور اصیل ثابت ہوئے۔یہ معنے ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔عراقیب جمع عُرُقُوب ہے پیٹھ کا پچھلا حصہ کسی غیر معروف راوی نے حسن بصری سے ضرب کے معنی روایت کئے ہیں یعنی مارنا۔ابن جریر مفسر نے پہلی روایت کو زیادہ صحیح مانا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۵۹) ضرب کے معنی تھپکنا بھی ہیں۔پوری آیات یہ ہیں: فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي ۚ حَتَّى تَوَارَتْ بالْحِجَابِه رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ٥ (ص: ۳۴،۳۳) { تو اس نے کہا: یقیناً میں مال