صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 384
صحيح البخاری جلد 4 ۳۸۴ ٦٠ - کتاب احاديث الأنبياء سلیمان نے بیت المقدس اور عبادت گاہیں بکثرت تعمیر کروائیں تا ان میں لوگوں کو عبادت کی سہولت میسر ہو۔جفان جمع جَفْنَة کی ہے: بڑا لگن اور جواب جمع جَابِيَّة کی ہے: حَوض۔اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسافر خانے ہنگر خانے اور حوض بنوائے تا مہمانوں اور عام مسافروں کو آرام ملے اور سواری اور بار برداری کے جانور بھی پانی پئیں۔بیت المقدس میں ۱۹۱۶ ء تک پانی کی قلت تھی اور محلية صلاح الدین ایوبی میں بھی ایک زمین دوز بڑا اور گہرا پہاڑی حوض تھا جس میں برساتی پانی جمع رکھا جاتا اور سارا سال کام دیتا۔معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا انتظام حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بھی وسیع پیمانہ پر کیا گیا تھا۔خفة علاوہ لگن کے چھوٹے کنوئیں کو بھی کہتے ہیں۔فلسطین و شام میں برسات پانچ چھ ماہ ہوتی ہے، پانی جمع رکھنے کا انتظام آسانی سے ہو جاتا ہے۔قدور رسیت : بڑی بڑی دیگیں۔سورۃ سباء ہی کی مذکورہ بالا آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا ج که قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَانَهُ ، فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِى الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ ) ( سبا : (۱) پھر جب ہم نے سلیمان کے لئے موت کا فیصلہ کیا تو ان ( یعنی سرکش قوموں کو ) اس کی موت کی صرف ایک زمین کے کیڑے نے خبر دی جو اس کے عصاء ( حکومت ) کوکھا رہا تھا۔پھر جب وہ گر گیا تو جنوں پر ظاہر ہو گیا کہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ ذلت والے عذاب میں پڑے نہ رہتے۔دَابَّةُ الْأَرْضِ کے معنی ہیں الْأَرْضَةُ : دیمک اور مِنسَأَةٌ کے معنی ہیں عصا، جِفَانٍ، جَوَابِ، دَابَّةُ الْأَرْضِ اور منسأة کے لغوی معنی مجاہد، ابو عبیدہ اور حضرت ابن عباس سے بواسطہ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۵۹) ان الفاظ سے مراد وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔اسی طرح عصا سے سلطنت اور دابتہ الارض سے زمینی لوگ مراد ہیں جن کی نا اہلیت اور نالائقی کی وجہ سے آل داؤد کی عظیم الشان مملکت برباد ہوئی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بیٹے رحعام نے اپنے باپ دادا کی سلطنت سنبھالنے میں کسی لیاقت اور قابلیت کا ثبوت نہیں دیا۔سر بعام نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سلطنت کو بارہ ٹکڑے کرنے کی سازش کی تھی اور ان میں سے دس ٹکڑے رحبعام کو دینے کا وعدہ کیا۔لیکن اس نے انکار کر دیا تھا۔پھر جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی سازش کا علم ہوا اور اسے سزا دینی چاہی تو وہ مملکت اسرائیل سے نکل گیا۔یہی یہ بعام ان کی وفات کے بعد اپنے وطن میں واپس آیا اور پھر سازشوں میں مشغول ہو گیا اور مملکت کے حصے بخرے کرنے اور اسے پاش پاش کرنے میں اہل سازش کو کامیابی ہوئی اور مملکت یہودا پارہ پارہ ہو کر بیرونی حملہ آوروں کے سامنے سرنگوں ہوگئی۔اسی کا ذکر آیت مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ میں ہے۔عام بن سلیمان ، سر بعام کی ریشہ دوانیوں اور اس کی سازشوں کا مقابلہ نہ کر سکا نہ بنی اسرائیل کی بغاوت فرو کر سکا اور آخر اسی سے شکست کھائی۔( سلاطین اول باب ۱۲ آیات ۲ تا ۲۰) کر کہ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ (سبا: ۱۵) یعنی