صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 383
حيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس کو بھڑکتا ہوا عذاب پہنچائیں گے۔وہ جو کچھ چاہتا تھا جن (یعنی سرکش قوموں کے سردار ) اس کے لئے بناتے تھے۔یعنی مساجد اور ڈھلے ہوئے مجسمے اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کے برابر ہوتے تھے اور بھاری بھاری دیکھیں جو ہر وقت چولہوں پر دھری رہتی تھیں (اور ہم نے کہا: ) اے داؤد کے خاندان کے لوگو! شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں سے بہت کم لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔شیاطین کی تسخیر سے سرکش لوگوں کی تسخیر مراد ہے۔اسیران جنگ وغیرہ سے صنعت و حرفت اور تعمیر داستعمار کے کام لینے کا ذکر سورۃ ص میں آتا ہے کہ ہم نے اس کے لئے ہوا کو خدمت پر لگا دیا جو اس کے حکم کے مطابق جدھر وہ جانا چاہتے نرمی سے اسی طرف کو چلنے لگتی۔اسی طرح ہم نے جنوں کو یعنی ان میں سے انجینئروں اور معماروں کو اور غوطہ خوروں کو اس کی خدمت پر لگا دیا تھا اور کچھ اور لوگوں کو بھی جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے۔یہ ہماری بے حساب عطا ہے۔(یعنی ہمارے فضل سے یہ کامیاب بیڑے تجھے ملے ہیں اور تجھے سرکش قوموں پر قبضہ ملا ہے۔) پس خواہ تو ان قوموں پر احسان کر اور خواہ جتنی مناسب سختی ہو ان سے کر اور اس ( یعنی سلیمان) کو ہمارے نزدیک بہت قرب حاصل ہے اور ہمارے پاس اس کا بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔ان آیات میں اسرائیلی حکومت کی وسعت کا مختصر بیان ہے جو بانی مملکت یہودا حضرت داؤد علیہ السلام کو حاصل ہوئی۔ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں اور ان کی محنت و حسن تدبیر سے مملکت اسرائیل دور در از اطراف تک پھیلی اور اس کا پرچم اکناف عالم متمدن پر ہرایا۔صنعت و حرفت، زراعت و تجارت وسیع پیمانہ پر تھی۔مال و دولت بیرونی ممالک سے اندرون ملک میں آیا اور اس نے رعایا کو خوشحال کر دیا۔مختلف مصنوعات کا ذکر جن میں سے بعض کا آیات مندرجہ میں کیا گیا ہے تواریخ دوم باب ۳ آیات سے تا ۱۷، باب ۴ آیات ۱ تا ۱۸ میں دیکھئے۔اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا سے اسی وسعت سلطنت و کاروبار اور خوشحالی کی طرف اشارہ ہے۔وَمِنَ الْجِنِّ سے اجنبی قوموں کے صنعت کار اور مزدور ہی مراد ہیں جو کسب معاش کی غرض سے مملکت اسرائیل میں آئے اور لائے جاتے اور محنت مزدوری کرتے تھے۔نیز اسیران جنگ جن سے تعمیر کا کام لیا جاتا تھا۔ان کی نظر بندی کے قید خانوں کی یاد گار اب تک بیت المقدس کے وسیع احاطہ میں موجود ہے۔اپنے دوران قیام بیت المقدس میں جنہیں دیکھنے کا موقع مجھے اکثر ملتا تھا۔جب میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے كلية صلاح الدین ایوبی سے آتا میرا راستہ اس یادگار عمارت کے بالکل سامنے اور قریب سے گزرتا تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بحری بیڑے اور اس کے دور و نزدیک سفروں کا ذکر سلاطین اول باب ۹ آیت ۲۶ میں ملاحظہ ہو۔مَحَارِيْبَ قَالَ مُجَاهِدٌ بُنْيَانٌ مَا دُونَ الْقُصُورِ: مجاہد کے نزدیک محراب جس کی جمع محاریب ہے وہ عمارتیں ہیں جو شاہی محلات سے کم درجے کی ہوں اور ابو عبیدہ کے نزدیک عبادت گاہ مراد ہے اور مطلق سکونت گاہ کے سامنے کا حصہ محراب کہلاتا ہے۔(فتح الباری جز ء۶ صفحہ ۵۵۹) ثانی الذکر معنی سیاق کلام کے مناسب ہیں۔حضرت