صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 382
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۸۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قرآن مجید پر غور و خوض کرنے کے لئے جو جلس ارشاد قائم ہوئی تھی، مرحوم مولوی محمد علی صاحب ایم اے اس کے صدر اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی، حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب بی اے رضی اللہ عنہم وغیرہ اس مجلس کے ممبر تھے۔ان دنوں چوہدری صاحب اور میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پاتے تھے۔ایام رخصت میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے انہی آیات سے متعلق میرے لئے مقالہ تجویز کیا۔میں نے منت کی، ممبران نے اصرار کیا اور حضرت صاحب نے مجھ سے امداد کا وعدہ فرمایا۔چنا نچہ کچھ کتا میں حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے کتب خانہ اور کچھ پنجاب پبلک لائبریری لاہور سے مہیا فرمائیں اور دو تین ماہ کے بعد میں نے ان آیات کی شرح پر مقالہ پڑھا جو صدر صاحب نے مجھ سے شکریہ کے ساتھ لے لیا۔غرض بغیر مزید تفاصیل میں جانے کے نہایت اختصار سے محولہ بالا آیات کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ سازشوں اور منصوبوں کے ذریعہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔تم سمجھتے ہو کہ تمہاری سازش ایسی ہے جیسی نبو کد نضر سے رہائی پانے کے لئے تم نے کی تھی اور اس میں کامیاب ہو گئے تھے۔حالانکہ وہ کامیابی دراصل اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوئی تھی اور اس وقت تم مظلوم تھے۔لیکن اب تمہاری منصوبہ بازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے خلاف ہے اس میں تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ تم کو نقصان ہی دے گی۔ط وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ O (البقرة : ۱۰۴) فرمایا: اگرید (یہودی) ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں تو یقین جو بدلہ اللہ کی طرف سے ملنے والا ہے وہ بہترین بدلہ ہے۔کاش کہ یہ جانیں۔کیا ہی معقول و مدلل اور پر زور و مؤثر الفاظ ہیں جن سے نیک راہ پر گامزن ہونے کے لئے ان سے عقل و شعور سے خطاب بلیغ دوجیز کیا گیا ہے مگر یہود نے اس سے فائدہ نہ اُٹھایا اور اپنی تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں سے کیا۔جیسا کہ غزوات میں ذکر آئے گا۔た حضرت سلیمان علیہ السلام سے متعلق تیسری آیت جو ذ کر کی گئی ہے وہ سورۃ سبا کی ہے اور وہ یہ ہے: وَلِسُلَيْمَنُ الرِّيْحَ غُدُوهَا شَهُرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ، وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَمَنْ تَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيتٍ اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُه (سبأ: ۱۳ ۱۴) اور ہم نے سلیمان کو ایسی ہوا عطا کی تھی جس کا صبح کا چلنا ایک مہینہ کے برابر ہوتا تھا اور شام کا چلنا بھی ایک مہینہ کے برابر ہوتا تھا اور ہم نے اس کے لئے تانبے کا چشمہ پگھلا دیا تھا اور ہم نے اس کو ایک جنوں کی جماعت بھی عطا کی تھی جو اس کے رب کے حکم سے اس کے تابع فرمان عمل کرتی تھی اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے سج روی اختیار کرے گا ہم