صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 381
صحيح البخاري - جلد 4 ٣٨١ ۶۰- کتاب احاديث الأنبياء اور اس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ دادا نے کی تھی۔غرض اسی قسم کی بہتان طرازی کی نفی وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ کے الفاظ میں کی گئی ہے۔نیز بنی اسرائیل کے ایک تاریخی واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ نبو کہ نفر شاہ بابل نے ( ۶۰۵ تا ۶۲ ۵ ق م ) بیت المقدس کو برباد کیا اور بچے کھچے یہودیوں کو قید کر کے بطور اسیران جنگ بابل میں لے گیا تو وہاں انہیں ایک سو سال بود و باش اختیار کرنی پڑی اور یہ لوگ اسیری میں نہایت ابتر حالت میں تھے۔آخر اللہ تعالیٰ کے اذن سے عزرا اور نحمیاہ (۵۰۰ تا ۴۴۴ ق م ) نبیوں نے خورس شاہ فارس کی امداد سے بنی اسرائیل کو بابلیوں سے آزاد کرایا اور انہیں یروشلم واپس جانے کی اجازت ملی اور ہر قسم کی سہولت انہیں ہم پہنچائی گئی بلکہ خورس نے بیت المقدس دوبارہ تعمیر کروایا۔عزرا اور نحمیاہ بنی اسرائیل کے نیک اطوار بزرگوں میں سے اور ان کے قاضی و زعیم تھے اور بابل کے بنی اسرائیل نے شاہ خورس نیک سیرت عادل بادشاہ کو اپنے ان دونوں زعیموں کے مشورے سے بابل کے ظالم بادشاہ کے خلاف مدد دی۔عزرا اور نحمیاہ کا شمار انبیاء بنی اسرائیل میں بھی کیا جاتا ہے اور وہ لہم تھے۔آیت میں ملکین سے مراد یہی دو مامور من اللہ ہیں نہ کہ فرشتے جن کا تعلق صرف مرسین اور مامورین سے ہوتا ہے اور جملہ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ سے ظاہر ہے کہ یہ ملکین لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اور یہ بات سب کو مسلم ہے کہ ملائکہ کا تعلق تعلیم ہر شخص سے نہیں ہوا کرتا بلکہ صرف اولیاء اللہ سے ہوتا ہے اور ان کا نام ہاروت و ماروت اسم وصفی ہے جو لفظ هَرَت وَمَرَت سے مشتق ہے۔هَرَتَ کے معنی ہیں مزق پھاڑ دیا اور موت کے معنی ہیں کچل دیا۔ہاروت اور ماروت کے معنی میں ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے اور کچلنے والے۔ملک زبان عربی میں نیک سیرت انسان پر بھی اطلاق پاتا ہے۔خود قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت آیا ہے: إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكَ كَرِيْمٌ (یوسف) (۳۲) یہ انسان نہیں بلکہ پاکیزہ صفات فرشتہ ہے۔آیت وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ (البقرة: ۱۰۳) میں دو فرشتوں سے ایسے ہی دو مقدس انسان مراد ہیں جو صاحب الہام و وحی تھے۔فقرہ وَمَا أُنزِلَ صریح الدلالت ہے کہ یہ نیک انسان ہیں جن پر وحی نازل ہوتی تھی۔فرشتے تو وحی نازل کرنے والے ہوتے ہیں نہ یہ کہ ان پر وحی نازل ہو اور وہ لوگوں کو سکھاتے پھریں۔وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ کا عطف پہلے جملہ پر ہے جو وَاتَّبَعُوا سے شروع ہوتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودی آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے وہی طریق اختیار کر رہے ہیں جو انہوں نے اپنی اسیری کے زمانے میں اختیار کیا تھا یعنی ایک بیرونی طاقت کے ساتھ سمجھوتہ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو نقصان پہنچا سکیں گے۔لیکن انہیں یا درکھنا چاہیے کہ وہ اپنی اسیری کے زمانے میں مظلوم تھے اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ اپنے دشمن سے نجات پائیں اور اس غرض کے لئے ان میں سے دو نبی بھی کھڑے کئے گئے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وہ موعود نبی کو نقصان پہنچانے کے لئے ساز باز کر رہے ہیں۔یہ ساز باز ان کو کوئی نفع نہ دے گی بلکہ ان کو تباہ کر دے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے نبی کے ساتھ ہے۔