صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 380 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 380

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۸۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء معبود حقیقی کے شناسا ہوں اور اپنے مقام کو پہچائیں۔امام بخاری نے مذکورہ بالا باب قائم کر کے اس کے تحت دیگر آیات اور بعض الفاظ کی تشریحات نقل کی ہیں جو حسب ذیل ہیں: ط ا قَوْلُهُ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِی: اس کے لیے دیکھئے کتاب الصلاۃ شرح باب ۷۵۔- وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيطِيْنُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ : وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ الشَّيْطِينَ كَفَرُوا يُعَلِمُونَ النَّاسَ السّحْرَ ، وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَا رُوْتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ * وَمَاهُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ * وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ) (البقرة: ۱۰۳) نیز وہ (یہودی) اس ( طریق عمل) کے پیچھے پڑ گئے جس کے پیچھے سلیمان کی حکومت کے زمانہ میں (اس کی حکومت کے ) باغی پڑے رہتے تھے اور سلیمان کا فر نہ تھا بلکہ (اس کے ) باغی کا فر تھے۔وہ لوگوں کو دھوکا دینے والی باتیں سکھاتے تھے اور ( بزعم خود اس بات کی بھی نقل کرتے ہیں ) جو بابل میں دوفرشتوں ہاروت و ماروت پر اُتاری گئی تھی۔حالانکہ وہ دونوں ( تو ) جب تک یہ نہ کہہ لیتے تھے کہ ہم ( خدا تعالیٰ کی طرف سے ) آزمائش کے طور پر ( مقرر ہوئے ) ہیں۔اس لئے (اے مخاطب ! ہمارے احکام کا ) انکار نہ کرنا کسی کو ( کچھ نہیں سکھاتے تھے۔جس پر وہ (لوگ) ان (دونوں) سے وہ بات سیکھتے تھے جس کے ذریعے سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کر دیتے تھے اور وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی کو بھی اس (بات) کے ذریعہ سے ضرر نہیں پہنچاتے تھے اور (اس کے بالمقابل) یہ (یعنی رسول اللہ کے دشمن ) تو وہ بات سیکھ رہے ہیں جو انہیں ضرر دے گی اور نفع نہیں دے گی اور یہ لوگ یقینا جان چکے ہیں کہ جو اس (طریق) کو اختیار کر لے، آخرت میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں اور وہ چیز جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا ہے بہت ہی بری ہے، کاش یہ جانتے۔سورۃ البقرہ کی اس آیت ۱۰۳ میں اس ہرزہ سرائی اور نکتہ چینی کا ذکر ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی حکومت کے خلاف غیروں اور اپنوں کی طرف سے کی گئی تھی اور ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودی بھی وہی طریق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اختیار کر رہے ہیں جو انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف اختیار کیا تھا یعنی گندہ پراپیگنڈہ۔نہ حضرت سلیمان علیہ السلام میں کوئی ایسی بات پائی جاتی تھی جس کا ان کے مخالف پراپیگینڈہ کرتے تھے اور نہ ہی کوئی ایسی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام ایک پاکباز انسان تھے اور خدا کے مقرب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام المتقین اور خدا کے محبوب۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف ان کے دشمن جو پراپیگنڈہ کرتے تھے اس کا ذکر عہد نامہ قدیم کی کتاب سلاطین اول باب ! آیات ۱ تا ۸ میں آتا ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کو شہوت رانی اور شرک اور بت پرستی سے منہم کیا گیا ہے اور اسی باب میں ان کے خلاف بغاوت کا بھی ذکر ہے اور لکھا ہے کہ حضرت سلیمان نے خداوند کے آگے (نعوذ باللہ ) بدی کی