صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 377 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 377

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰- كتاب احاديث الأنبياء فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ دیا۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور چاہا کہ مسجد کے ستونوں مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا میں سے ایک ستون سے اس کو باندھ دوں تا کہ تم إِلَيْه كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سب اس کو دیکھو۔مگر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آئی: اے میرے رب! مجھ کو ایسی بادشاہت سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي عطا کر جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔تو میں نے اس کو لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَدْتُهُ خَاسِنًا۔دختہ کار کر بھگا دیا۔عِفْرِيْتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍ مِثْلُ عِفْرِیت کے معنی سرکش خواہ انسان ہو یا جانور اس کو عفرية بھی کہتے ہیں۔جیسے زبنيَّة اس کی جمع زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِي زبانِی ہے۔اطرافه: ٤٦١، ١٢١٠، ٣٢٨٤، ٤٨٠٨۔٣٤٢٤: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۳۴۲۴ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ حَدَّثَنَا مُغِيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوْفَنَّ اللَّيْلَةَ کہ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داؤد نے کہا: آج میں عَلَى سَبْعِيْنَ امْرَأَةً تَحْمِلُ كُلُّ امْرَأَةٍ ستر عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ہر عورت کے حمل فَارسًا يُجَاهِدُ فِي سَبِیلِ اللهِ۔فَقَالَ لَهُ سے شاہسوار ہوگا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ان صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ فَلَمْ يَقُلْ وَلَمْ کے مصاحب نے کہا: انشاء اللہ کیسے، سلیمان نے نہیں تَحْمِلْ شَيْئًا إِلَّا وَاحِدًا سَاقِطًا أَحَدُ کہا۔اور ان عورتوں نے کچھ نہ جنا مگر ایک ہی بچہ جس شِقَّيْهِ۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کا آدھا جسم نہ تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وَسَلَّمَ لَوْ قَالَهَا لَجَاهَدُوا فِي سَبِيْلِ انشاء اللہ کہتے تو سب اللہ کی راہ میں یقیناً جہاد کرتے۔اللَّهِ۔قَالَ شُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ شعيب بن ابی الزناد نے اپنی روایت میں نوے کا عدد تِسْعِيْنَ وَهُوَ أَصَحُ۔بیان کیا ہے مگر یہ ستر کی روایت زیادہ صحیح ہے۔اطرافه: ۲۸۱۹، ٥٢٤۲ ٦٦٣٩ ، ٦٧٢٠، ٧٤٦٩۔