صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 376 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 376

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء تأكُلُ مِنْسَأَتَهُ عَصَاهُ فَلَمَّا خَرَّ نے دی یعنی دیمک کے کیڑے نے جو اس کے إِلَى قَوْلِهِ الْمُهِينِ (سباء: ١٣، ١٥) سونٹے کو کھا رہا تھا۔جب وہ گر پڑا۔۔۔۔حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي۔۔فَطَفِقَ (سلیمان نے کہا: ) مجھے جو مال و دولت سے محبت ہے سُمَّا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ (ص: ٣٣ ٣٤) وہ اپنے رب کے نام یعنی اس کی بڑائی کے قائم کرنے يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَعَرَاقِيْبَهَا کی خاطر ہے۔اور وہ گھوڑوں کی ایال اور ا گاڑی اور الْأَصْفَادِ (ص: ۳۹) الْوَثَاقُ قَالَ پچھاڑی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔الأصفاد کے معنی ہیں بیٹریاں۔مجاہد نے الصَّافِنَات کی تفسیر میں مُجَاهِدٌ الصّفِنْتُ صَفَنَ الْفَرَسُ رَفَعَ کہا: صَفَنَ الْفَرَسُ یعنی گھوڑے نے اپنا ایک پاؤں إِحْدَى رِجْلَيْهِ حَتَّى تَكُونَ عَلَى طَرَفِ اُٹھایا، کھر کی نوک سے زمین کی ٹیک لگا کر کھڑا ہوا۔الْحَافِرِ الْجِيَادُ (ص: ۳۲) السّرَاعُ الصَّافِنَات وہ گھوڑے جو اس طرح کھڑے ہوتے جَسَدًا (ص: ٣٥) شَيْطَانًا۔رُخَاءً طَيِّبَةً۔ہیں۔الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ تیز گھوڑے۔ہم نے اس حَيْثُ أَصَابَ (ص: ۳۷) حَيْثُ شَاءَ کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا یعنی ایک شریر انسان۔فَامْنُنْ أَعْطِ بِغَيْرِ حِسَابِ (ص: ٤٠) رُخَاء کے معنی ہیں نرمی سے، خوشی سے سہولت سے۔حَيْثُ أَصَابَ جہاں چاہتا۔فَامْنُنْ بغیر حساب عطا بِغَيْرِ حَرَجٍ کر یعنی بغیر حرج، بغیر کسی تنگی اور گناہ کے خوف کے۔٣٤٢٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۴۲۳ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سے روایت کی کہ جنگلی درندوں میں سے ایک مکروہ عِفْرِيْنَا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ شكل درندہ کل رات ( مجھ پر ) ایکا یک ٹوٹ پڑا تاکہ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ میری نماز کو توڑ دے۔مجھے اللہ نے اس پر قابودے غن