صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 374
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۴ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کی بیوی کو پسند کر کے اس سے طلاق کی درخواست کرے۔ نہ درخواست کرنے والا اس میں تکلف کرتا تھا اور نہ وہ شخص جس سے درخواست کی جاتی اس پر برا مانتا تھا اور یہ تو ایک عمدہ اخلاق والی بات سمجھی جاتی تھی کہ کوئی شخص کسی دوست کو خوش کرنے یا اس کی تکلیف رفع کرنے کے لئے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کے نکاح میں دے دے لیے اور پھر یہ موجودہ زمانے کا ”صالح اور مزاج شناس رسول مفسر قرآن اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ آگے لکھتا ہے کہ یہ یہودی اخلاق کا ہی اثر تھا کہ مدینے میں بعض انصار اپنے مہاجر بھائیوں کی خاطر اپنی بیویوں کو طلاق دے کر ان سے بیاہ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَذَا الْخَرَافَاتِ) وائے بر این کذب و افتراء ۔۔۔۔ باید گریه بر این عقل و دانش شہوت پرست طامع انسان ، قاتل و ظالم کو قوم وملت کی خلافت سپرد کی جائے کہ تمہیں عدل و انصاف قائم کرنا ہوگا اور حرص و ہوا کی پیروی نہیں کرنی ! خلافت جیسا بار امانت ایسے شخص کو سونپا جائے ؟ سونپا جائے جو بندہ حرص و آز ہو! وایں چہ بوا جیسی ! کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عَبْدَنَا داؤد کے پیارے نام سے یاد کرے اور اسے اپنے فرستادوں میں شمار سمجھے اور سید الرسل محمد مصطفے احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظمت مآب شخصیت کو ارشاد فرمائے: فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُل (الأحقاف: ۳۶) اور آپ کو ارشاد ہو فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهُ (الأنعام: (۹) جن رسولوں کی اقتداء اور ان جیسا صبر و اولوالعزمی دکھانے کا آپ کو ارشاد ہوا ہے ان میں حضرت داؤد و حضرت سلیمان کا نام بھی مذکور ہے اور جس کامل تو کل، صبر و بردباری، حلم و تواضع اور انکساری و اولوالعزمی کا نمونہ بالفعل حضرت داؤد علیہ السلام نے دکھایا اس کا کسی قدر اندازہ مزامیر زبور اور ان کی عظیم الشان فتوحات اور غیر معمولی و خوارق عادت نصرت الہی سے ہو سکتا ہے جو شدید دشمنوں اور نهایت وحشی قبائل اور مشرک ہمسایہ اقوام کے مقابلے میں انہیں حاصل ہوئیں۔ باب زیر شرح میں محولہ آیات کا یہی تاریخی پس منظر ہے جو اوپر اختصار سے بیان کیا گیا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ کتاب الانبیاء کا یہ حصہ ابواب استخلاف سے تعلق رکھتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرعی نبی کی امت میں حضرت داؤد علیہ السلام خلیفہ نبی مبعوث ہوئے جن کے ہاتھوں مملکت کی مضبوط بنیاد رکھی گئی اور ان کے جانشین حضرت سلیمان علیہ السلام جن کا ذکر اگلے باب میں کیا گیا ہے۔ باب ۳۹ کے تحت دو روایتیں ہیں جن میں سورۃ ص کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پہلی میں اس آیت فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِه کا ذکر ہے جسے میں نے بطور استدلال ابھی پیش کیا ہے کہ جس رسول کی اقتداء کا ارشاد باری تعالی خاتم الانبیاء سرور کونین کو اس کی طرف بیہودہ بات باتیں منسوب کی جائیں وہ نہ عقل باو وہ نہ عقل باور کر سکتی ہے اور نہ ایمان ے اور نہ ایمان اور نہ غیرت کو بہ غیرت کو برداشت۔ اسی لئے امام بخاری نے ایسی دونوں روایتیں نقل کی ہیں جن میں اس سورۃ اور اس کے سجود کا ذکر ہے۔ یعنی قرآن مجید کے سامنے سرتسلیم خم ہونا چاہیے نہ یہ کا ہے نہ یہ کہ اسرائیلی روایات صرف تسلیم کی جائیں بلکہ ان پر ان پر حاشیے چڑھائے جائیں۔ ہو ہمارا سر ل (تفہیم القرآن مودودی تفسیر سورة ص ، آیت ۲۳، ۲۶، حاشیہ نمبر ۲۸، جلد چہارم صفحه ۳۲۸، ۳۲۹) (تفہیمات مودودی، حصہ دوم، زیر عنوان قصہ داؤد علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات، حاشیہ صفحہ ۴۷)