صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 373
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۷۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء نہیں ہوتا۔وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَشاهُ اور داؤد کو یقین ہو گیا کہ اس سلسلہ مخالفت اور ابتلاء سے وہ صرف اس لئے دو چار ہوا ہے کہ ہم اسے کندن کریں۔عربی زبان میں فِتْنَةٌ کے وہ معنی نہیں جو اردو زبان میں مشہور ہیں بلکہ سونے کو بھٹی میں ڈال کر اسے آمیزش و ملاوٹ سے نکھارنا اور کندن کرنا عربی لغت میں فتنہ کہلاتا ہے۔ابتلاء اور امتحان کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ لائق و نالائق کا امتیاز ہو جائے۔چنانچہ گوناں گوں ابتلاؤں کا نتیجہ یہ ہوا: فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ کہ داؤد نے اپنی کمزوریوں کے دور ہونے کی دعائیں اپنے رب سے کیس اور گڑ گڑاتے ہوئے اس کے حضور جھکا اور اس کی دہلیز پر جبین نیاز رکھی۔فَغَفَرُنَا لَهُ سوہم نے اسے مغفرت سے نوازا۔وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ (ص:۲۶) اور اسے ہمارے حضور انتہائی قرب اور مقام حسن دلربائی حاصل ہوا۔حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ مقام فنافی اللہ وشیدائیت ان کی مزامیر و عاشقانہ ترانوں اور ان کی والہانہ وارفتگی سے ظاہر وباہر ہے۔بھلا ایسے فانی فی اللہ عاشق زار کا ان لغو اور پوچ قصوں سے کیا واسطہ جو بعض تفاسیر میں مروی ہیں۔ایسی باتیں تو وہی کہہ سکتے ہیں جنہوں نے راستبازوں کو کھاؤ پیو، شرابی ، زانی اور بٹ مار وغیرہ ناموں سے یاد کیا۔(اس تعلق میں دیکھئے متی باب ۱۱ آیت ۱۹، لوقا باب ۷ آیت ۳۴ تا ۴۰) قرآن مجید کا اسلوب بیان ان قصوں سے بالکل پاک ہے اور امام بخاری نے بھی اپنی کتاب ان سے پاک وصاف رکھی اور میں بھی اپنی شرح کو ایسی نازیبا باتوں سے محفوظ رکھوں گا۔امام موصوف نے مذکورہ بالا آیت کا مفصل حوالہ محض اسی غرض سے دیا ہے کہ وہ لغو و فضول نا پاک قصے ردی کی ٹوکری میں ڈلوانا چاہتے ہیں۔کیونکہ آیت وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسُنَ مَآبِ اور اس کا سیاق ان ناپاک باتوں کے بالکل منافی و خلاف ہے اور انہیں رڈ کرتا ہے۔چنانچہ اس آیت کے بعد معاً فرماتا ہے : يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يُضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ) (ص: ۲۷) (پھر ہم نے اس سے کہا ) اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔پس تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ حکم کر اور اپنی خواہش کی پیروی مت کر۔وہ تجھے اللہ کے راستے سے بہکا دے گی۔وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کو سخت عذاب ملتا ہے۔کیونکہ وہ حساب کے دن کو بُھلا بیٹھے ہیں۔کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ اس معزز خطاب استخلاف کا ایسا شخص مخاطب ہو جس کی طرف ایسی نا پاک باتیں منسوب کی گئی ہوں جن سے چوہڑے چمار بھی گھن کھاتے ہوں۔وہ بھی دوسرے کی بہو بیٹی کا پاس رکھتے ہیں۔ذرا تفسیر مظہری کا حاشیہ پڑھ کر دیکھ لیں کہ اس کا مصنف کیا لکھتا ہے اور آجکل ایک نو تعلیم یافتہ اور اسلام وتفسیر القرآن کا مدعی لکھتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں تفسیروں میں بیان کردہ ناپاک واقعہ کی حقیقت یہ ہے (نعوذ باللہ ) کہ آپ نے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اور یاہ (یا جو کچھ بھی اس کا نام ہو ) اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور آپ نے یہ جو کچھ کیا تھا وہ بنی اسرائیل کے ہاں عام دستور سے متاثر ہو کر کیا تھا اور کہ اسرائیلیوں کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ تھی کہ کوئی شخص کسی دیکھئے تفسیر مظہری جلد ہشتم تفسیر سورة ص آیت ۲۳ ۲۶۔ط