صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 372 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 372

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ”میرے دشمنوں کو دیکھ کیونکہ وہ بہت ہیں اور ان کو مجھ سے سخت عداوت ہے۔میری جان کی حفاظت کر اور مجھے چھڑا۔مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔کیونکہ میرا تو کل تجھ ہی پر ہے۔دیانتداری اور راست بازی مجھے سلامت رکھیں۔کیونکہ مجھے تیری ہی آس ہے۔(زبور، باب ۲۵ آیات ۱۹ تا ۲۱) میں اپنے سب مخالفوں کے سبب سے اپنے ہمسایوں کے لئے از بس انگشت نما اور اپنی جان پہچانوں کے لئے خوف کا باعث ہوں۔کیونکہ میں نے بہتوں سے اپنی بدنامی سنی ہے۔ہر طرف خوف ہی خوف ہے۔جب انہوں نے مل کر میرے خلاف مشورہ کیا تو میری جان لینے کا منصوبہ باندھا۔لیکن اے خداوند! میرا تو کل تجھ پر ہے۔میں نے کہا: تو میرا خدا ہے۔میرے ایام تیرے ہاتھ میں ہیں۔مجھے میرے دشمنوں اور ستانے والوں کے ہاتھ سے چھڑا۔اپنے چہرے کو اپنے بندے پر جلوہ گر فرما۔اپنی شفقت سے مجھے بچالے۔“ ( زبور، باب ۳۱ آیات ۱۱ تا ۱۶) شریر راستباز کے خلاف بندشیں (منصوبے) باندھتا ہے اور اُس پر دانت پیتا ہے۔شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے تا کہ غریب اور محتاج کو گرا دیں اور راست رو کو قتل کریں۔“ ( زبور، باب ۳۷ آیات ۱۲ تا ۱۴) اور زبور باب ۴۰ آیت ۸ میں اپنے موعود نبی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مناجات اور عاجزی سے عرض کرتے ہیں: ”اے میرے خدا! میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔“ اور اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں: "اے خداوند! میری مدد کے لئے جلدی کر۔جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپے ہیں وہ سب شرمندہ اور بجبل ہوں جو مجھ پر آہا ہا ہا کرتے ہیں وہ اپنی رسوائی کے سبب سے تباہ ہو جائیں۔( زبور باب ۴۰ آیات ۱۳ تا ۱۵) حضرت داؤدعلیہ السلام کے خلاف بہتان طرازی اور منصوبہ سازی کی حالت یہ تھی کہ آپ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں: ” میرے ولی دوست نے جس پر مجھے بھروسہ تھا اور جو میری روٹی کھاتا تھا، مجھ پر لات اُٹھائی ہے۔“ ( زبور باب ۴۱ آیت ۹) ان حوالوں سے واضح ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے حاسدوں و دشمنوں کی طرف سے الزام تراشی اور تہمتوں کا نشانہ بنائے گئے اور ان کے خلاف قتل کے منصوبے ہوئے اور ان کا ایک پروردہ دوست بھی منصوبہ میں شریک کیا گیا۔باب کی محولہ بالا آیت إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَاب کا تعلق انہی گوناگوں منصوبوں میں سے منصو بہ قتل و سازش فتنہ انگیزی سے ہے جو سیاق و سباق کلام سے ظاہر ہے۔الخصم عربی زبان میں عدو یعنی دشمن کا مترادف ہے۔خَصِیم کے معنی ہیں: جھگڑالو۔الخضم اسم جمع کا صیغہ ہے۔قلعہ کی دیوار پھاند کر اندر بے وقت اور بلا اجازت ان کا وہاں آنا ہی بتاتا ہے کہ وہ بدارادہ سے آئے تھے۔مگر حضرت داؤد علیہ السلام اور آپ کے پہر اداروں کو ہوشیار اور بیدار پاکر انہوں نے بہانہ بنایا کہ ان کا ایک جھگڑا ہے جس کا ان سے فیصلہ چاہتے ہیں۔حضرت داؤد علیہ السلام نے غایت درجہ صبر و حمل اور چشم پوشی سے کام لیا اور فیصلہ فرمایا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کوئی نانوے دنبیوں کا مالک ہوتے ہوئے دوسرے کی ایک دنبی کی طمع کرے۔اکثر شرکاء کا یہی حال ہے کہ وہ حریص و طامع ہوتے ہیں۔لیکن مومن وصالح عمل اور تقومی شعار انسان ایسا