صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 371
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء (۳) فَقَالَ اكْفِلْنِيهَا : اس فقرے میں كَفَلَ کے وہی معنی ہیں جو آیت وَ كَفَلَهَا زَكَرِیا میں ہیں یعنی حضرت زکریا نے حضرت مریم کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا۔ یہ معنی اور اگلے ٹکڑے کے معنے ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ (۴) وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ : یعنی گفتگو میں بالا دستی سے کام لیا۔ ( یہ سمجھ کر کہ وہ مجھ سے زیادہ معزز ہے ) قتادہ سے عز کے معنی نی ظلم و جبر مروی ہیں یعنی مجھ پر ظلم و جبر کیا ہے۔ (۵) إِنَّمَا فَتَنَّاهُ: ہم نے اس کی آزمائش کی۔ اختبار کے معنی آزمانا حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور حضرت عمر کی قرأت ت کی شد سے ہے۔ فتنا یعنی آزمائش میں ڈالا ۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۵۷،۵۵۶) حضرت داؤد علیہ یہ السه السلام کی تین آزمائشوں میں سے ایک آزمائش کا ذکر تواریخ اول باب ۲۱ میں ہے۔ آپ نے مردم شماری کرنے کا حکم دیا اور معلوم ہوا کہ وہ تعداد میں زیادہ ہو گئے ہیں۔ بعد میں انہیں اپنی خوشی کے احساس پر جو خلاف تو کل تھا، سخت ندامت ہوئی اور انہوں نے تو بہ واستغفار و فدیہ سے اس کا تدارک فرمایا۔ جو اُن کے کمال معرفت کی شہادت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ذکر میں بتایا جا چکا ہے کہ جس قدر معرفت میں ترقی ہوتی ہے اسی نسبت سے نیکی و بدی کی تعریف بھی بدلتی جاتی ہے۔ زبور کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ احساس بہت بلند پایہ اور نہایت ہی نازک تھا کہ اپنی معمولی سی بھول کو گناہ سے تعبیر فرماتے اور اپنے معبود کے حضور عاجزی اور فروتنی اور گریہ وزاری سے اپنے کامل تزکیہ نفس کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ طوالت کے خوف سے صرف چند حوالہ جات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ اے میرے خدا! میں نے تجھ پر توکل کیا ہے مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔ (زبور، باب ۲۵ آیت ۲) اے خداوند ! اپنے نام کی خاطر میری بدکاری معاف کر دے کیونکہ وہ بڑی ہے۔“ (زبور، باب ۲۵ آیت ۱۱) تو میری مصیبت اور جانفشانی کو دیکھ اور میرے سب گناہ معاف فرما۔ (زبور، باب ۲۵ آیت (۱۸) ” مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کیونکہ میرا تو کل تجھ ہی پر ہے ۔۔۔ مجھے تیری ہی آس ہے۔“ (زبور، باب ۲۵ آیت ۲۰، ۲۱) غرض کئی جگہ اپنے مذکورہ بالا خلاف تو کل فعل پر نالہ و فریاد کی ہے اور اپنی بھول چوک اور پوشیدہ عیبوں سے پاک کئے جانے کے لئے بار بار دعائیں کی ہیں۔ (زبور، باب ۱۹ آیت (۱۲) (زبور، باب ۲۲ آیات ۶،۵ ) جن سے حضرت داؤد علیہ السلام کی حدت احساس کا علم ہوتا ہے جو گناہ اور تزکیہ نفس کے بارے میں آپ کو تھا۔ اس کے کے علاوہ زبور کی مناجات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب آر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کی مملکت نے وسعت اختیار کی تو آپ کے حاسدوں اور دشمنوں کی طرف سے بدنام کرنے کے لئے آپ پر ناپاک الزام لگائے گئے اور ان کے خلاف کئی ایک منصوبے باندھے گئے جن میں سے ایک منصوبہ آپ کے قتل کا بھی تھا۔ اپنی مناجات میں دعا کرتے اور کہتے ہیں: ” جب میں شیر خوار ہی تھا تو نے مجھے تو کل کرنا سکھایا۔ میں پیدائش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا۔ میری ماں کے پیٹ ہی سے تو میرا خدا ہے ۔ ۔۔۔۔ بہت بہت ۔ سے سانڈوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔کتوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ بدکاروں کا گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے۔“ (زبور باب ۲۲ آیات ۹، ۱۰، ۱۲ تا ۱۶)