صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 30
صحيح البخاری جلد ٦ ۳۰ ۵۹ - كتاب بدء الخلق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَدْرِي لَعَلَّهُ } كَمَا نبی ﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ شاید ویسے بادل قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا نہ ہوں جیسے عاد کی قوم نے کہا تھا جب انہوں نے بادل مُسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ (الأحقاف: (٢٥) اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا (یعنی وہ بادل آ رہا ہے جو ہم پر برسے گالیکن وہ ان پر عذاب لے آیا۔) الْآيَا ٤٨٢٩۔تشريح : هُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشُرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ: پوری آیت یہ ہے وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ ، حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا لِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ (الأعراف: ۵۸) اور وہی ہے جو ہوائیں اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے کے لیے چلاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادل اٹھالیتی ہیں تو ہم انہیں ایک مردہ ( بنجر ) علاقہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے پانی اُتارتے اور اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں۔قاصِفا سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں ہواؤں کا ذکر بطور عذاب الہی ہے۔فرماتا ہے: اَم آمنتُمْ أَنْ يُعِيدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ فَاصِفًا مِنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُمُ بِمَا كَفَرْتُمْ۔(بنی اسرائیل: ۷۰) کیا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں پھر دوسری بار اس سمندر میں لوٹا لائے اور تم پر ایک تند ہوا چھوڑ دے۔پھر تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کر دے۔لَوَاقِحَ لفظ کا ذکر کر کے جس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے: وَاَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَكُمُرُهُ : وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ ) (الحجر: ۲۳) اور ہم نے ( بخارات کو ) اُٹھانے والی ہوائیں چھوڑ رکھی ہیں۔( جن سے ) بادل کا پانی نازل کیا اور تمہیں پلایا ہے۔اور تم اسے اکٹھا کر کے محفوظ نہیں کر سکتے تھے۔ابوعبیدہ نے قَاصِفا کے معنی توڑنے پھوڑنے والے کے کیے ہیں۔لواقع جمع ہے لاقح کی، یعنی گا بھن کرنے والی۔اور اس کے معانی ہیں وہ ہوا جس میں نمی ہو۔یہ نمی مٹی سے مل کر بیج کی نشو و نما اسی طرح کرتی ہے جس طرح قطرہ منی کی نشو و نما مادر رحیم میں ہوتی ہے۔اس لیے ہوا ؤس کو لواقح کہا گیا ہے۔لواقع کے معنی ہیں گا بھن کرنے والیاں۔طبری کے نزدیک ہوائیں بخارات اُٹھانے کے لحاظ سے حامل آپ ہیں اور فعل تلقیح کے لحاظ سے حمل کا موجب ہیں۔لقح کے معنی ہیں اُٹھانا اور گا بھن کرنا۔دونوں معافی کی رو سے ہوائیں لواقع کہلاتی ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۶۲) علم نباتات میں جو نئی تحقیق ہوئی ہے، اس میں یہ ثابت ہوا ہے کہ بعض پھول نر ہوتے ہیں اور بعض مادہ۔عرب لوگ نر کھجور کے غنچہ کا غبار زرلے کر مادہ کھجور کے غنچہ میں ڈالتے تھے۔اس سے اُس کی تلقیح ہو جاتی۔ہوائیں، شہد کی مکھیاں اور کیڑے مکوڑے وغیرہ عمل تلقیح میں بڑی مدد دیتے ہیں۔وہ نر پھول کا غبار مادہ پھول میں لے جاتے ہیں۔شہد کی مکھی جب نر پھول سے رس چوستی ہے تو غبار زر اس کے منہ اور پروں سے چمٹ جاتا ہے اور پھر یہی غبار مادہ پھول تک پہنچ جاتا ہے جب لکھی اس کا رس چوسنے جاتی ہے۔ہوائیں اور بعض قسم کے پروانے اور کیڑے بھی یہی خدمت تلقیح ادا کرتے ہیں۔یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ (۳۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔