صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 29
صحيح البخاری جلد 4 ۲۹ ۵۹- كتاب بدء الخلق مَلاقِحَ مُلْقِحَةً۔ہیں حاملہ کر دینے والی (ہوائیں ) مَلَا قِحَ جو مُلْقِحَةٌ کی جمع ہے وہ بھی انہی معنوں میں ہے۔اِعْصَارٌ (البقرة: ٢٦٧) رِيْحٌ عَاصِفٌ (اور فرمایا: فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ یعنی باغ کو تَهُبُّ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ كَعَمُوْدٍ ایسے بگولے نے جلا دیا جس میں آگ تھی ) إعصار فِيْهِ نَارٌ۔کے معنی ہیں وہ جھکڑ جو زمین سے اُٹھ کر آسمان کی طرف ایک ستون کی طرح بلند ہو جاتا ہے (اور ) اس میں آگ ہو۔صِرٌّ (آل عمران: ۱۱۸) بَرْد۔صر کے معنی ہیں سخت ٹھنڈی ہوا۔نُشُرًا مُتَفَرِّقَةً۔لفظ نُشُرًا کے معنی ہیں جدا جدا ، متفرق۔٣٢٠٥: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ۳۲۰۵ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم سے ، حکم نے مجاہد رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: شرقی ہوا سے میری مدد وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ۔اطرافه 1۰۳۵، 3343، 4105۔کی گئی ہے اور عاد مغربی ہوا سے ہلاک کئے گئے۔٣٢٠٦: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۳۲۰۶ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ عَائِشَةَ رَضِيَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء سے، عطاء اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔کہتی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان میں بادل مَخِيْلَةً فِي السَّمَاءِ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ دیکھتے تو ادھر اُدھر اندر باہر آتے جاتے اور آپ کا وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَإِذَا چہرہ متغیر ہو جاتا۔جب بادل برسنا شروع ہو جاتا تو أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ سُرِيَ عَنْهُ فَعَرَّفَتْهُ آپ سے گھبراہٹ جاتی رہتی۔تو حضرت عائشہ نے عَائِشَةُ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله آپ کو آپ کی یہ حالت بتائی (اور اس کا سبب پوچھا )