صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 31
صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹ - كتاب بدء الخلق لفظ اعصار سے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۶۷ کی طرف اشارہ ہے۔جس میں بادِ سموم عذاب قرار دی گئی ہے کہ وہ پھل دار پودوں کو جلا کر تباہ کر دیتی ہے۔فرماتا ہے: أَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ * لَهُ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ ص فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتُ (البقرة: ۲۶۷) کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔جس سے ہر قسم کے میوے اسے مل رہے ہوں۔اور بڑھاپا اسے آپہنچا ہو اور اس کی کمزور اولاد ہو۔پھر اس باغ پر ایک ایسا بگولا چلے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔اغصار کے معنی ہیں بگولا۔لفظ صر کے معنی ہیں باد صر صر۔شدید خنک ہوا جو فصلوں کو جلا دیتی ہے۔اس سے سورۃ آل عمران کی آیت ۱۸ کی طرف اشارہ ہے۔جو یہ ہے: مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرِّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتُهُ * وَمَا ظَلَمَهُمُ اللهُ وَلَكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ہ جو مال اس دنیا ( کی اغراض ) کے لئے خرچ کیا جاتا ہے اس کی مثال اس ہوا کی ہے جس میں سخت ٹھنڈک ہو۔جو ایسی قوم کی کھیتی پر چلے جس نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہو اور وہ اسے تباہ کر دے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ط نُشُرًا سے آیت وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا (المرسلات (۴) کی طرف اشارہ ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ قسم ہے ق ان ہواؤں کی یا نفوس کی جو اچھی طرح بکھرتی (یا پھیلاتی ) ہیں۔اس باب کے تحت دور روایتیں ہیں۔دونوں سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نفع بخش شئے نقصان دہ ہو جاتی ہے۔اس سے متصرف بالا رادہ قادر خلق کائنات کے وجود کا ثبوت واضح طور پر ملتا ہے۔جس نے تسخیر اشیاء کی قدرت انسان میں ودیعت کر کے عنان تصرف اپنے ارادے اور دست قدرت میں رکھی ہے۔جس سے ایک شئے خیر یا شر کا منبع ہوسکتی ہے۔کا ئنات عالم پر اصلی تصرف خالق کا ئنات کا ہے۔فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ) (البقرۃ: ۳۰) اور وہی ہے جس نے ہر شئے جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کی ہے اور پھر بلندی کی طرف متوجہ ہوا، اسے سات بلندیوں میں یکساں کیا اور وہی ہر شئے کا بخوبی علم رکھتا ہے۔اور سورۃ الفلق میں ہمیں ہدایت ہے کہ ہر شئے کے شر سے خالق کا ئنات کی پناہ ڈھونڈو۔کیونکہ خالق کا ئنات کے ارادہ سے وہ شئے جو خیر کا مصدر ہے شرکا مصدر بھی ہوسکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس خوف و ہیم کا ذکر روایت نمبر ۳۲۰۶ میں وارد ہوا ہے، اس سے آپ کے عرفانِ کامل کا علم حاصل ہوتا ہے جو آپ کو خالق کون کے تصرفات سے متعلق حاصل تھا۔اس روایت میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَمَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ هِ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرى إِلَّا مَسْكِنُهُمُ كَذلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ (الأحقاف : ۲۶،۲۵) پس جب اس کی قوم نے اس عذاب کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: ط ط