صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 370
صحيح البخاری جلد ۶ ۳۷۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کہ حضرت داؤد علیہ السلام ہمارے پرستار کو بڑی بڑی طاقتیں دی گئی تھیں اور ان کی مملکت مضبوط کی گئی حکمت و دانش، تدبیر محکم اور عدل وانصاف سے۔ لفظ حکمت اور فصل الخطاب ان تمام امور تمام امور کو شامل رکھتا ہے جن کا تعلق حسن من سیاست و ادارہ قضا سے متعلق ہے۔ مذکورہ بالا آیت کے بعد یہ آیات ہیں: وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لَا تَخَفْ خَصْمَانِ بَغَى بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطُ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ ) إِنَّ هَذَا أَخِي َل لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَقَالَ أكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ (ص: ۲۲ تا ۲۵) اور کیا تمہیں ان دشمنوں کی خبر معلوم ہے جبکہ وہ دیوار پھاند کر اندر آگئے تھے۔ جب وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گیا۔ انہوں نے کہا: ڈر نہیں ( ہم دونوں ) دو دشمن ہیں۔ ہم میں سے ایک دوسر۔ دوسرے پر زیادتی کر رہا ہے ۔ پس تو ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے اور ظلم فیصلہ کر دے اور ظلم نہ کیجیو اور سیدھے راستے کی طرف ہمیں راہنمائی کر۔ یہ میرا بھائی ہے۔ اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میری صرف ایک دنبی ہے۔ پھر بھی وہ کہتا ہے کہ اپنی دنبی مجھے دے دے اور بحث میں مجھے دباتا جاتا ہے۔ اس پر ( داؤد نے) کہا: تیری دُنبی طلب کرنے میں اس نے ظلم سے کام لیا ہے اور بہت سے شرکاء ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں سوائے مومنوں کے اور ان کے جو ایمان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ سو وہ لوگ تھوڑے ہیں اور داؤد کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آزمائش میں ڈالا ہے ( یعنی دشمنوں کے سر اٹھانے کی وجہ سے۔ پس وہ اپنے رب سے استغفار کرنے لگا اور اطاعت ظاہر کرتے ہوئے زمین پر گر گیا اور (خدا کی طرف ) متوجہ ہوا۔ اس آیت کے منقولہ معانی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں : (1) وَلَا تُشْطِطُ کے معنی ہیں وَلَا تُسْرِفُ اسراف نہ کرو، حد سے نہ بڑھو۔ فراء ادیب نحوی نے اس کے معنی لَا تَجْرُ کئے ہیں یعنی ظلم وجور نہ کرو؛ اور قتادہ کے نزدیک اس کے معنی ہیں لا تُمل یعنی ادھر اُدھر نہ جھکو ۔ اور سڈی سے لا لَا تُخِفُ مروی ہیں یعنی حقوق میں کمی نہ ہو۔ (۲) نَعْجَةٌ کے معنی دُنبی کے ہیں اور عورت کو بھی استعارہ نَعْجَةٌ کہتے ہیں اور اس کے معنی بکری کے بھی ہیں۔ ابو عبیدہ نے وَلِی نَعْجَہ سے یہ مراد لی ہے کہ میری ایک جو رو ہے۔ امام ابن حجر نے اس تعلق میں اعشی شاعر کا یہ شعر نقل کیا ہے : فَرَمَيْتُ غَفْلَةَ عَيْنِهِ عَنْ شَاتِهِ فَأَصَبْتُ حَبَّةَ قَلْبِهَا وَطِحَا لِهَا اس کی آنکھ اپنی بکری (جورو) سے غافل ہوئی تو اس غفلت میں تیر نظر سے میں نے اس کی بیوی کے قلب و جگر کو چھلنی کیا اور اسے اپنا گرویدہ بنالیا۔