صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 369
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء قَالَ لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: سورۃ وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص کا سجدہ ضروری سجدوں میں سے نہیں ہے۔مگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس میں سجدہ يَسْجُدُ فِيْهَا۔طرفه ١٠٦٩ کیا کرتے تھے۔تشریح۔وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الْأَيْدِ: پری آیات یہ ہیں: اصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا - دَاوُدَ ذَا الْأَيْدِ ۚ إِنَّهُ أَوَّابٌ إِنَّا سَخَّرُنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ، وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ ، وَشَدَدْنَا مُلكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ) (ص : ۱۸ تا ۲۱) جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر تو صبر سے کام لے۔اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو بڑی طاقت کا مالک تھا۔یقیناوہ بار بار خدا کی طرف جھکتا تھا۔ہم نے پہاڑ کے رہنے والے لوگوں کو اس کے تابع کر دیا تھا اور وہ شام اور صبح تسبیح میں لگے رہتے تھے اور بلند پرواز انسانوں کو بھی جمع کر کے اس کے ساتھ لگا دیا تھا۔وہ سب کے سب خدا کی طرف جھکنے والے تھے اور ہم نے اس کی حکومت کو مضبوط کیا تھا اور اس کو حکمت اور قاطع دلیل بخشی تھی۔اس آیت میں فَصُلُ الْخِطَاب کے معنی مجاہد کے نزدیک قضائی امور کی سمجھ کے ہیں۔عنوانِ باب میں دو آیتوں کا حوالہ اور بعض مفردات کی تفسیر ہے۔پیشتر اس کے کہ مع ترجمہ اس کی شرح بیان کی جائے سابقہ ابواب کے تعلق میں دو باتوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔اول: اس فضیلت کا ذکر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی یا مامور کو دی ہو ، منشائے ارشاد نبوی لَا تُخَيَّرُونِي عَلَى يُونُسَ ابْنِ مَتی کے خلاف نہیں۔آئندہ ابواب میں اسی قسم کی فضیلت کا ذکر ہوگا جو بعض ایسے خلفاء امت کو حاصل ہوئی ہے جو منہاج نبوت کی شرطوں کے مطابق مبعوث ہوئے۔دوم: ایسے خلفاء راشدین کے اوصاف و ممیزات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب ابواب زیری شرح میں مفصل ہوگا۔تین چار اوصاف تو پہلے باب کی شرح میں بیان ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان کا تعلق معبود حقیقی سے نہایت گہرا اور عاشق و معشوق کا ہوتا ہے اور آلات حرب و ضرب و ساز و سامان جنگ اور کثرت تعداد سپاہ پر اُن کا بھروسہ مطلق نہیں ہوتا، بلکہ اس ذات واحد د یگانہ پر توکل رکھنے والے ہوتے ہیں۔اس کے حکم سے وہ کھڑے ہوتے اور اس کے حکم کی تعمیل میں جان و مال اور عزیز سے عزیز ترین شئے کی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے بلکہ اس میں اپنی خوشی و جنت پاتے ہیں اور غیر اللہ ان کی نظر میں پر پشہ کی حیثیت نہیں رکھتے اور ان کا ہر عمل صلاحیت و اصلاح پر مبنی ہوتا ہے۔یہ بڑا اور اہم امتیاز ہے جس سے خلافت راشدہ پر متمکن ہونے والے مخصوص کئے جاتے ہیں۔پہلی آیت جس کا حوالہ دیا گیا ہے او پر مع ترجمہ درج ہو چکی ہے۔اس آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ