صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 366
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۶۶ ۶۰- کتاب احاديث الأنبياء مِنْ عَمَلِ يَدِهِ- صورت معاش کے لیے محنت تھی۔کتاب البیوع باب ۱۵ روایت نمبر۲۰۷۲ میں یہ حصہ گزر چکا ہے صلوۃ وصوم اور حقوق العباد میں حد اعتدال ملحوظ رکھنے کا ارشاد ہے۔تینوں روایتوں سے عمل صالح کی تعریف واضح کی گئی ہے۔(اول) وہ عمل جس میں رضائے الہی مد نظر ہو اور اس سے تعلق باللہ پیدا ہو اور روح کو زندہ و ترو تازہ رکھنے والا ہو۔( دوم ) محنت جس سے صورت معاش پیدا ہو کر جسم کی غذا مہیا ہو اور انسان زندگی بسر کر سکے۔(سوم) ان دونوں قسم کے عمل میں حد اعتدال ملحوظ رہے اور وہ برمحل و موقع صادر ہوں۔افراط و تفریط دونوں نقصان دہ ہیں اور عمل کو غیر صالح بنا دیتے ہیں۔آیت وَاعْمَلُوا صَالِحًا کی شرح سے ان تینوں روایتوں کا تعلق ہے۔صوم و صلوۃ جیسے نیک کام غیر صالح ہو جائیں گے اگر وہ حد اعتدال میں اور برمحل نہ ہوں گے۔حضرت داؤد علیہ السلام کو جو وابستگی اللہ تعالیٰ سے تھی کتاب زبور کی مناجات سے ظاہر ہے۔باب ۳۷ کی پہلی روایت کا یہی مفہوم ہے۔باب ۳۸ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا اللہ کو سب سے زیادہ پیاری نماز حضرت داؤد کی نماز ہے اور اللہ کو سب سے پیارے روزے حضرت داؤد کے روزے ہیں، آدھی رات سویا کرتے تھے اور تہائی رات عبادت کرتے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سوتے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ نہ رکھتے قَالَ عَلِيٌّ وَهُوَ قَوْلُ عَائِشَةَ مَا أَلْفَاهُ على (بن مدینی) نے کہا: یہی حضرت عائشہ کا قول السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا۔ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت اپنے پاس سویا ہوا پاتی تھی۔٣٤٢٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۳۴۲۰ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن عَمْرِو بْنِ أَوْسِ الثَّقَفِي سَمِعَ عَبْدَ اللهِ دینارے، عمرو نے عمرو بن اوس ثقفی سے روایت کی کہ ابْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے سنا۔کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الصِّيَامِ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو