صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 365
۳۶۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء صحيح البخاري - جلد 4 آیت قَدِرُ فِی السَّرْدِ کے یہی معنی نقل کئے ہیں کہ زرہوں کے آہنی حلقے اور کیل کانٹے مضبوط اور صحیح اندازے پر ہوں تادشمن کے پریکان تیر و شمشیر کی دھار اور نیزہ کی آنی اثر انداز نہ ہوسکیں اور مرد کے معنی ہیں پے در پے اور صحیح وقت پر فوجوں کی روانگی ہو، تا دشمن قبائل کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔اس سیاق کلام سے طیر کا جو مفہوم پہلے بیان کیا گیا ہے وہ ان جنگی مہمات کی اصطلاح کے ساتھ پوری مطابقت رکھتا ہے جن کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام مامور تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام ان روحانی اشخاص میں سے تھے جن کا بھروسہ مادی اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ الہی نصرت پر تھا۔وہ حقیقی معنوں میں موحد تھے۔جس کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں خلافت راشدہ سے سرفراز کئے گئے۔دنیا پرست لوگوں کا انداز فکر و عمل اور قسم کا ہوتا ہے۔ایمان باللہ کے فقدان سے ان کے عمل حقیقت میں صلاحیت پذیر نہیں ہوتے۔اس فرق کو نمایاں کرنے کی غرض سے وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ کا آخر میں حوالہ دیا گیا ہے جو آیت أَنِ اعْمَلُ سبعت کا آخری حصہ ہے اور یہ وہ خاص امتیاز ہے جس سے حضرت داؤد علیہ السلام کو غیروں پر فضیلت حاصل ہوئی۔اس حصے کا ترجمہ یہ ہے۔اے داؤد کے ساتھیو! اعمالِ صالحہ بجالاتے رہو میں تمہارے ط عمل کا خوب بینا ہوں۔باب ۳۷ کے تحت تین حدیثیں ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۳۴۱۷) دوسندوں سے مروی ہے اور دونوں معنعن ہیں۔یعنی یہ تو ذکر ہے کہ خبر دینے والے معمر ہیں اور ہمام، حضرت ابو ہریرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ کس راوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سن کر مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔ایسی روایت بمقابلہ مرفوع روایت کے کمزور سمجھی جاتی ہے۔(دیکھئے اصول روایت و درایت مقسم سوم ، صحیح بخاری شرح ہذا جلد اول صفحه ۲۲ ۲۳۰) روایت معنعن کی مثال کے لئے ملاحظہ ہو شرح روایت نمبر ۳۳۶۴، ۳۳۶۵۔ایسی روایت میں ضروری نہیں کہ صحت وضبط الفاظ ملحوظ ہو۔مثلاً اسی روایت میں الفاظ يَقْرَءُ الْقُرْآنَ ہیں۔القُرآن سے قرآن مجید تو مراد نہیں ہوسکتا کہ وہ بہت بعد میں نازل ہوا اور نہ تو رات مراد ہے کیونکہ جو تو رات ہمارے پاس موجود ہے وہ مجموعہ ہے انسانی صحیفوں کا، جن کے متعدد مصنف ہیں اور جن پر قرآن (یعنی وحی الہی) کا اطلاق نہیں ہوسکتا اور بعض ان میں سے اتنے تنعیم ہیں کہ کوئی انسان انہیں از بر یاد نہیں کر سکتا اور نہ یہ ممکن ہے کہ گھوڑوں پر زین ڈالنے سے پہلے دُہرائے جاسکیں۔اس سے ظاہر ہے کہ القران سے مراد علی الاطلاق زبور کی بعض دعائیں ہیں جو بوقت کوچ یا حملہ حضرت داؤد علیہ السلام پڑھا کرتے تھے۔خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ عليه السلامُ الْقُرْآنُ سے یہی مراد ہے کہ وہ دعائیں بار بار دہرانے سے حضرت داؤد آسانی سے پڑھ سکتے تھے۔امام ابن حجر نے زبور ہی مراد لی ہے نہ تو رات۔اور اس تعلق میں قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ زبور میں حمد وثنا باری تعالیٰ اور نصیحتیں ہیں۔احکام حلال و حرام وفرائض و احکام تعزیرات اس میں نہیں بلکہ یہ باتیں تو رات میں ہیں جو ان کے لئے واجب العمل تھی۔دوسرا قول امام نووی کا منقول ہے کہ بعض صوفیوں نے اس روایت سے متعلق بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه۵۵۴) امام بخاری نے ایسے مبالغہ آمیز اقوال نظر انداز کر دیئے ہیں۔وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا