صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 365
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۶۵ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء آیت قَدِرُ فِي السَّرُدِ کے یہی معنی نقل کئے ہیں کہ زرہوں کے آہنی حلقے اور کیل کانٹے مضبوط اور صحیح اندازے پر ہوں تا دشمن کے پیکان تیر و شمشیر کی دھار اور نیزہ کی انی اثر انداز نہ ہو سکیں اور سرد کے معنی ہیں پے در پے اور صحیح وقت پر فوجوں کی روانگی ہو، تا دشمن قبائل کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ اس سیاق کلام سے طبیر کا جو مفہوم پہلے بیان کیا گیا ہے وہ ان جنگی مہمات کی اصطلاح کے ساتھ پوری مطابقت رکھتا ہے جن کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام مامور تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان روحانی اشخاص میں سے تھے جن کا بھروسہ مادی اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ الہی نصرت پر تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں موحد تھے۔ جس کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں خلافت راشدہ سے سرفراز کئے گئے ۔ دنیا پرست لوگوں کا انداز فکر و عمل اور قسم کا ہوتا ہے۔ ایمان باللہ کے فقدان سے ان کے عمل حقیقت میں صلاحیت پذیر نہیں ہوتے ۔ اس فرق کو نمایاں کرنے کی غرض سے وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ کا آخر میں حوالہ دیا گیا ہے جو آیت أَنِ اعْمَلْ سَبعت کا آخری حصہ ہے اور یہ وہ خاص امتیاز ہے جس سے حضرت داؤد علیہ السلام کو غیروں پر فضیلت حاصل ہوئی ۔ اس حصے کا ترجمہ یہ ہے۔ اے داؤد کے ساتھیو! اعمال صالحہ بجالاتے رہو میں تمہارے عمل کا خوب بینا ہوں ۔ باب بمقابلہ ۳۷ کے تحت تین حدیثیں ہیں۔ پہلی روایت (نمبر ۳۴۱۷) دو سندوں سے مروی ہے اور دونوں معنعن ۔ من ہیں۔ یعنی یہ تو ذکر ہے کہ خبر دینے والے معمر ہیں اور ہمام ، حضرت ابو ہریرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ کس راوی ۔ س راوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سن کر مذکورہ بالا روایت نقا است سن کر مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔ ایسی روایہ مرفوع روایت کے کمزور سجھی جاتی ہے۔ (دیکھئے اصول روایت و درایت قسم سوم ، صحیح بخاری شرح ہذا جلد اول صفحہ ۲۳٬۲۲) روایت معنعن کی مثال کے لئے ملاحظہ ہو شرح روایت نمبر ۳۳۶۴، ۳۳۶۵۔ ایسی روایت میں ضروری نہیں کہ صحت وضبط الفاظ ملحوظ ہو۔ مثلاً اس روایت میں الفاظ يَقْرَءُ الْقُرْآنَ ہیں۔ الْقُرآن سے قرآن مجید تو مراد نہیں ہو سکتا کہ وہ بہت بعد میں نازل ہوا اور نہ تو رات مراد ہے کیونکہ جو تو رات ہمارے پاس موجود ہے وہ مجموعہ ہے انسانی صحیفوں کا ، جن کے متعدد مصنف ہیں اور جن پر قرآن (یعنی وحی الٰہی) کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور بعض ان میں سے اتنے ضخیم ہیں کہ کوئی انسان انہیں از بر یاد نہیں کر سکتا اور نہ یہ ممکن ہے کہ گھوڑوں پر زین ڈالنے سے پہلے دہرائے جاسکیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ القرآن سے مراد علی الاطلاق زبور کی بعض دعائیں ہیں جو بوقت کوچ یا حملہ حضرت داؤد علیہ السلام پڑھا کرتے تھے۔ خُفِّفَ عَلَى داؤد علیه السلامُ الْقُرْآنُ سے یہی مراد ہے کہ وہ دعائیں بار بار دہرانے سے حضرت داؤد آسانی سے پڑھ سکتے تھے۔ امام ابن حجر نے زبور ہی مراد لی ہے نہ تو رات۔ اور اس تعلق میں قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ زبور میں حمد و ثنا باری تعالیٰ اور نصیحتیں ہیں۔ احکام حلال و حرام و فرائض و احکام تعزیرات اس میں نہیں بلکہ یہ باتیں تو رات میں ہیں جو ان کے لئے واجب العمل تھی۔ دوسرا قول امام نووی کا منقول ہے کہ بعض صوفیوں نے اس روایت سے مت ے متعلق بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۵۴) امام بخاری نے ایسے مبالغہ آمیز اقوال نظر انداز کر دیئے ہیں ۔ وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا