صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 364 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 364

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء إِذَا مَا غَدًا بِالْجَيْشِ حَلَّقَ فَوْقَهُ عَصَائِبُ طَيْرِ تَهْتَدِى بِعَصَائِب (تاريخ بغداد، ذكر من اسمه يزيد، روایت نمبر ۰ ۷۶۶، جز ۴ صفحه ۳۳۵) جب وہ فوج لے کر صبح کو نکلتا ہے تو اس کے اوپر پرندے جھنڈ ڈر جھنڈ منڈلاتے ہیں۔پرندے ایک دوسرے کو دیکھ کر پے در پے آتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ایک ظفر مند فوج کوچ کر رہی ہے۔جس کی بدولت انہیں وافر کھانے کے لئے لاشے ملیں گے۔الغرض حضرت داؤد علیہ السلام کے ذکر میں تین لفظوں سبغت، جمال، الطیر سے معانی میں بہت وسعت پیدا کر دی گئی ہے۔سرکش قبائل کی اطاعت اختیار کرنے کا وسیع مضمون بیان کیا گیا ہے جس کی تصدیق تواریخ عہد قدیم سے ہوتی ہے۔مذکورہ بالا فضیلت میں حضرت داؤد علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فیض شریعت کی بدولت ممتاز تھے جو وقت کی ضرورت کا تقاضا تھا اور اسی کے تسلسل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی فضیلت حاصل ہوئی۔یہ موضوع ہے باب ۳۷ کا۔قَالَ مُجَاهِدٌ سَبِّحِي مَعَهُ : مجاہد نے أَو بِى مَعَهُ کے معنی سَبِّحِي مَعَهُ کئے ہیں۔یعنی اے پہاڑو اور پرندو! داؤد کے ساتھ اللہ تعالی کی تصیح کرو۔یہ منی فریابی نے ان سے نقل کئے ہیں اور ضحاک سے مروی ہے کہ لفظ او بسی حبشی زبان کا ہے اور قتادہ کے نزدیک اس کے معنی سیدی یعنی کوچ کرو ہیں۔اس لفظ کے معنی سیحی ہوں یا سیری، جبال سے مراد بہر حال اہل جبال ( پہاڑی قبائل ) ہیں اور تسبیح و حرکت و نقل میں حضرت داؤد علیہ السلام کی اطاعت اختیار کرنے کا انہیں حکم تھا۔بعض نے الطیر سے اطاعت شعار مستعد اور بلند پرواز انسان مراد لئے ہیں۔یعنی بڑے بڑے دنیاوی اور روحانی دونوں قسم کے لوگ ان کی اطاعت کے لئے مامور و مکلف تھے۔بلند پرواز انسان کے معنوں میں طیر کا لفظ سورۃ آل عمران آیت ۵۰ میں بطور تمثیل وارد ہوا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے کہا: أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِينَ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ۔میں تمہارے (فائدہ کے) لئے بعض طینی خصلت رکھنے والوں سے پرندہ (کے پیدا کرنے ) کی طرح ( مخلوق ) پیدا کروں گا۔پھر میں ان میں ایک نئی روح پھونکوں گا جس پر وہ اللہ کے حکم کے ماتحت اُڑنے والے ہو جائیں گے۔حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس طرح پرندہ انڈوں کو سیتا اور ان سے بچے نکالتا ہے میں بھی اسی طرح انسانوں میں سے روحانی قابلیت کے لوگوں کو اپنی تربیت میں لے کر ایک دن اس قابل بنا دیتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف روحانی پرواز کرنے والے بن جاتے ہیں۔پس فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ مِیں طَيْر سے مراد بلند پرواز لوگ ہیں اور حضرت داؤدعلیہ السلام کے ذکر میں جو لفظ طیر استعمال ہوا ہے، اس میں روحانی پرواز کرنے والے لوگ بھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔أَنِ اعْمَلْ سُبعَتِ وَقَدِرُ فِی السَّرْدِ کی آیت میں جنگی تیاری کے وسیع پیمانہ اور صیح اندازہ پر کرنے کا مفہوم بھی سیات کلام اور محاورہ زبان عربی کے عین مطابق ہے۔جس کی تاریخی واقعات سے بھی تائید ہوتی ہے۔امام بخاری نے