صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 363 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 363

حيح البخاری جلد 4 ٣٦٣ ۶۰- کتاب احاديث الأنبياء اس آیت میں رسولوں کو تین چیزیں دیئے جانے کا ذکر ہے: البينات، الزُّبُرِ الْكِتَابِ الْمُنِير۔بعض نے کتاب منیر سے شریعت مراد لی ہے اور زبر سے کتاب جو پر حکمت اور قومی التاثیر ہو؛ اور بینات سے دلائل و نشانات جن سے رسولوں کی صداقت ثابت ہو۔صاحب شریعت رسول کے جانشین نبی بھی ان معنوں میں کتاب دیئے جاتے ہیں کہ انہیں اس کتاب کا فہم لدنی عطا کیا جاتا ہے اور ان کی تحریر و تقریر پر حکمت و معرفت اور مؤثر ہوتی ہے جس سے دل موم ہو جائیں اور وہ آسمانی نشانات سے مؤید ہوتے ہیں اور مکالمہ و مخاطبہ سے سرفراز۔حضرت داؤد علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے اور ان کو بھی مذکورہ بالا تین باتیں عطا کی گئیں۔ان کی کتاب زبور پڑھ کر دیکھی جاسکتی ہے کہ اس میں تینوں باتیں پائی جاتی ہیں۔غرض مذکورہ بالا آیت سے متعلق یہ خیال درست نہیں کہ بعض رسول بینات دیئے جاتے ہیں اور بعض زبور یا کتاب منیر بلکہ وہ فرستادہ لوگ جو شرعی رسول کے تابع ہوں اور ان کی خلافت علی منہاج النبوۃ ہو، ایسے تابع جانشین انبیاء کو بھی تینوں باتیں عطا کی جاتی ہیں جو ان کے لئے مہر صداقت ہوتی ہیں۔امام بخاری نے خلافت راشدہ ہی کے تعلق میں آیت وَآتَيْنَا دَاوُدَ زُبُورًا کا حوالہ اور اس آیت کی شرح نقل کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ خلفاء علاوہ مذکورہ بالا تین مشتر کہ باتوں کے بعض خصوصیات بھی رکھتے ہیں اور اس کے لئے دوسری آیت وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا کی طرف توجہ منعطف کی ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلْنَّا لَهُ الْحَدِيدَ هِ أَنِ اعْمَلُ سبِعَةٍ وَقَدِرُ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيره (سبا: ۱۲۰۱۱) اور ہم نے داؤد کو اپنا فضل عطا کیا تھا ( اور کہا کہ ) اے پہاڑوں کے رہنے والو! تم اور اے پرند و اس کے ساتھ خدا کی تسبیح کرو۔اور ہم نے اس کے لیے لو ہا نرم کر دیا تھا۔(اور کہا تھا کہ) پورے اندازے کی زرہیں بناؤ اور ان کے حلقے بھی اندازے کے ہوں۔یعنی چھوٹے اور (اے داؤد کے ساتھیو ! ) اپنے ایمان کے مطابق عمل کرو۔میں تمہارے عمل دیکھ رہا ہوں۔یہ آیت بھی ایجاز بلیغ کی ایک مثال ہے۔اس میں جہال سے مراد پہاڑی اور وحشی قبائل فلسطین ہیں جنہوں نے حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد میں اور ھم مچارکھا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ قبائل مغلوب ہوئے۔حضرت داؤد علیہ السلام کو اس کے لئے جو مہمات اختیار کرنی پڑیں ان کا تقاضا تھا کہ وسیع پیمانہ پر اسلحہ، تلواریں، زرہیں، خود، بھالے اور تیر و پیکان تیار ہوں۔اسی مکمل تیاری کا ذکر آیت آن اعْمَلُ سيغتٍ وَقَدِرُ فِي السَّردِ کے ایک مختصر جملہ سے کیا گیا ہے۔سبغت کا موصوف دروع محذوف ہے۔ط و تاریکا 0 ج يَا جِبَالُ أوّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ : الطَّير کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی جنگیں کامیاب ہوں گی۔کیونکہ الطیر استعارہ کامیاب جنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔سورۃ الملک آیت ۲۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تبعین کے لئے فتح کی پیشگوئی کرتے ہوئے اللہ تعالی طیور کا ذکر فرماتا ہے کہ یہ پرندے جو تمہارے اوپر پرواز کرتے ہیں الہی تصرف میں ہیں اور وہ روکے ہوئے ہیں۔لیکن ایک وقت آئے گا جب کفار کی لاشوں کا گوشت نوچنے کے لئے انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔مشہور شاعر نابغہ ذبیانی اپنے سردار قبیلہ کی تعریف کرتا اور کہتا ہے: