صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 362 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 362

صحيح البخاری جلد 4 ۳۶۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى۔ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیا کرتے اور جب دشمن سے مقابلہ کرتے ، بھاگتے نہیں تھے۔اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۰۲، ۱۱۰۳، ۱۹۷۱، ۱۹۷۵، ۱۹۷۶ ، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ٥، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۱۹۹ ،۰۰۰٥، ٤۰۰۳ ،۵۰۰۲ ،۳۶۲۰ ،۳۴۱۸ ،۱۹۸۰ تشریح : وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا : اس باب سے اب موسوی سلسلہ خلافت اور محمدی سلسلہ خلافت کا مضمون شروع ہوتا ہے اور دونوں کی مماثلت کا بعض پہلوؤں کے اعتبار سے مقابلہ کر کے نزول مسیح اور قتل دجال سے متعلق عظیم الشان ذکر پر ابواب موازنہ ختم کئے گئے ہیں۔یہ کل تیرہ باب ہیں۔جب بنی اسرائیل میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ صراط مستقیم سے منحرف ہونے لگے تو رحمت الہیہ نے ان کا تدارک فرمایا۔امت محمدیہ امت موسویہ سے مماثلت رکھتی ہے۔اتنی شدید مماثلت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے شبرا بشیر کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اس مماثلت کا طبعی تقاضا یہ ہے کہ وہ مماثلت خیر میں بھی اس کے مشابہ ہو اور رحمت ربانی خیر الام سے نہ صرف ویسا ہی سلوک فرمائے بلکہ اس سے بڑھ کر تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان افضلیت متحقق ہو سکتی ہے اور آپ کی امت آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 11) کی مصداق ٹھہرے گی ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کو بھی ختم شدہ ماننا پڑے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کا تعلق سابقہ ابواب موازنہ سے ہے جن کی شرح ذیل میں باب وار ملاحظہ ہو۔ط وَآتَيْنَا دَاوُد زَبُورًا: پوری آیت یہ ہے وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّيْنَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُوراه (بنی اسرائیل: (۵۶) اور جو وجو د بھی آسمانوں اور زمین میں بسنے والے ہیں انہیں تمہارا رب سب سے زیادہ جانتا ہے اور ہم نے یقینا انبیاء میں سے بعض نبیوں کو بعض ( دوسرے انبیاء) پر فضیلت دی ہے اور داؤد کو ( بھی ) ہم نے زبور دی تھی۔اس آیت میں صراحت سے ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے انبیاء کو ایک دوسرے پر بعض خاص خاص امور میں فضیلت دی ہے۔جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور عطا کی تو جو موضوع مقابله ومواز نہ امام بخاری کے مدنظر ہے وہ ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت لَا تُخَيَّرُونِی کے خلاف نہیں۔الزبر کے معنی ہیں کتب۔زہر کا مفرد زبور ہے یعنی لکھی ہوئی کتاب۔کہتے ہیں: زبرٹ اور اس کے معنی ہوتے ہیں: كتبت۔زجاج کے نزدیک ہر وہ تحریر زبور ہے جو حکمت و دانش پر مشتمل ہے۔اور راغب نے اس کا اشتقاق زُبُرَةٌ (لوہے کا مضبوط الکترہ ) بتایا ہے اور زبور سے مراد ہر وہ کلام ہے جو اپنے اندر قوت اور مضبوطی رکھے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُ وُا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ ه (آل عمران: ۱۸۵) یعنی اے محمد رسول اللہ ! اگر منکر تجھے جھٹلائیں تو ( کیا ہوا) تجھ سے پہلے کے کئی رسولوں کو ( بھی ) جو کھلے نشانات اور نوشتے اور روشن شریعت لائے تھے، جھٹلایا جا چکا ہے۔