صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 28 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 28

صحيح البخاری جلد ٦ ۲۸ ۵۹ - كتاب بدء الخلق تَسْجُد تَحْتَ الْعَرُش : حدیث نمبر ۳۱۹۹ میں عرش کے نیچے سجدہ آفتاب کا ذکر ہے اور علماء سلف نے آفتاب کے سجدے سے مراد قوت تسخیر کی ہے جس کے ذریعے سارا عالم مسخر ہے۔یعنی سورج بھی مثل دیگر کائنات کے خالق کا کامل طور پر مطیع وفرمانبردار ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۶۰) اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں۔ایک ذاتی ،فرمایا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (الشوری :۱۲) اس کی مانند کوئی شئے نہیں۔دوسری اضافی ، یعنی اس کی صفات مخلوق کی نسبت اس کے سلوک کے لحاظ سے۔عرش وہ مقام تنزیہہ ہے جہاں صفات ذاتیہ کا ظہور بلا توسط اسباب ہے اور صفات اضافی کی تجلی دنیا میں اسباب کے توسط سے ہے، بلا واسطہ اسباب نہیں۔آیت اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى (طه: ۶) میں عرش سے مراد وہی تنزیہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی صفات بلا توسل اسباب متجلی ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷ ۲۷۸،۲۷۔نیز اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۷۲ تا ۳۷۷۔عرش کی مذکورہ بالا وضاحت سے ظاہر ہے کہ سورج کے سجدہ کرنے سے اس کی تسخیر و خضوع تام ہی مراد ہے۔کسی زمانہ میں انسان سمجھتا تھا کہ آسمان چکر لگا رہا ہے اور سورج وستارے اور ہماری زمین سب اس میں مرصع اور ثابت وغیر متحرک ہیں۔مگر انسان کو آب علم ہو گیا ہے کہ ہماری زمین پہاڑوں سمیت اور کائنات عالم بالا کی ہر شئے اپنے اپنے دائرہ میں تیزی سے چکر لگا رہی ہے حتی کہ سورج وچاند بھی۔اسی سے آیت كُلُّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (يس : ٤١) کا مضمون واضح ہو جاتا ہے جو پہلے واضح نہیں تھا اور خدا تعالیٰ کے فعل اور کلام میں مطابقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔غالباً یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ امام بخاری نے کتاب بدء الخلق کے ابواب میں آیات اللہ کے حوالے بکثرت دے کر ان کے معانی و مفہوم و سیاق و سباق سے متعلق خاموشی اختیار کی ہے اور مفردات کے وہ لغوی معنے درج کر دیئے ہیں جو صحیح سند سے مروی ہیں۔کتاب التفسیر میں بھی یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۳۱۹۹ ،۳۲۰۰ سے مشرکین کے عقیدہ کا بطلان مقصود ہے، ساری کائنات عالم علوی و سفلی الہی تصرف میں ہے اور فنا پذیر ہے۔روایت نمبر ۱ ۳۲۰ تا ۳۲۰۴ سے بھی مشرکین کے تو ہمات کا ازالہ کیا گیا ہے۔اس تعلق میں تشریح كتاب الكسوف بابا بھی دیکھئے۔بَابِ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ وَهُوَ الَّذِى يُرْسِلُ الرِّيحَ نُشُرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ *۔اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق جو بیان ہوا ہے ط وہ وہی خدا ہے جس نے ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے چلایا کہ وہ خوشخبری دیں قَاصِفًا (بني إسرائيل:(۷۰) تَقْصِفُ ( یه جو فرمایا:) فَاصِفًا اس کے معنی ہیں سخت آندھی جو كُلَّ شَيْءٍ لَوَاقِحَ (الحجر :۲۳) ہر چیز کو توڑ ڈالتی ہے ( اور فرمایا :) لواقع اس کے معنی سورة الأعراف آیت ۵۸ میں اس جگہ بُشْرًا بَيْنَ يَدَی رَحْمَتِہ ہے۔ترجمہ اس کے مطابق ہے۔