صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 358 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 358

صحيح البخاری جلد 4 ۳۵۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء آیت وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِنِينَ) (البقرة: ۶۶) یعنی یقینا تم ان لوگوں کو جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے سبت کے بارہ میں تجاوز کیا تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر ہو جاؤ۔جب کوئی قوم اصل احکام سے روگردانی کرتی ہے تو وہ بندروں کی طرح غیر قوموں کی ریس کرنے لگتی ہے اور نقال بن جاتی ہے۔یہی مفہوم ہے اس آیت کا۔امام موصوف نے باب ۳۶ کے تحت کوئی روایت نقل نہیں کی۔جس سے ظاہر ہے کہ ایلہ بندرگاہ سے متعلق جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ ان کے نزدیک کمزور ہے اور نا قابل التفات۔یعنی یہ روایت کہ سبت کے دن مچھلی کا شکار کرنے والے یہودی سچ مچ بندر کی شکل میں مسخ کئے گئے تھے۔جنہوں نے اپنی تفاسیر میں ایسی روایات کو جگہ دی۔انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ اگر آیت میں بندر مراد ہوتے تو از روئے قواعد نحو قِرَدَةً حَاسِنَةً ہونا چاہیے تھا۔صفت جمع سالم تو آدمیوں کے لئے آتی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ ظاہری شکل وصورت میں تو انسان ہی تھے مگر معنوی اعتبار سے بندر تھے۔کتنی واضح بات ہے۔خود تو رات میں انہیں بار بار مشرک غیر اقوام کے پیرو اور نقال کہا گیا ہے۔جیسا کہ اس بارہ میں حوالے دیئے جاچکے ہیں۔قُلْنَا لَهُمْ سے مراد لفظی خطاب نہیں بلکہ تقدیر الہی کا اجراء ہے۔جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پس پشت ڈالا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دوسری قوم کے مقلد بن گئے۔یہی سنت الہیہ تمام ایسی نقال قوموں کے لئے جاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی نسبت واضح طور پر فرمایا تھا: لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بشیر کہ تم بھی اپنے سے پہلوں کے طور و طریق کی ضرور پیروی کرو گے جیسے ایک ہتھیلی دوسری کے مشابہ ہوتی ہے۔ایسی ہی تمہاری مشابہت ان سے ہوگی۔صحابہ یہ سن کر گھبر ائے اور پوچھا: یا رسول اللہ ! یہود و نصاریٰ کی ؟ فرمایا: ان کی نہیں تو اور کن کی۔(روایت نمبر ۳۴۵۶) آپ نے مسلمانوں کے یہود و نصاریٰ سے مشابہہ ہونے اور ایک مثیل مسیح کی آمد کا بھی ذکر فرمایا۔اس مماثلت کے تعلق میں باب ۵۰،۴۸ دیکھئے۔نیز روایت نمبر ۳۴۴۲ میں امت محمدیہ میں سلسلہ خلافت کے جاری ہونے کا بھی ذکر ہے۔باب ۳۶ مذکورۃ الصدر مماثلت کی غرض سے ہی قائم کیا گیا ہے۔ورنہ معنونہ آیت مع شرح الفاظ کے لیے دیکھئے کتاب التفسیر سورۃ الاعراف۔قَالَ قَتَادَةُ : إِنْ أَصْحَابَ السَّبْتِ كَانُوا مِنْ أَهْلِ أَيْلَةَ۔۔۔۔۔فَأَمَرُوا رَجُلًا أَنْ يُصْعَدَ عَلَى سُلْمٍ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَرَآهُمْ قَدْ صَارُوا قِرَدَةً۔(فتح الباری جزء ۱ صفحه ۵۵۱) قتادہ کہتے ہیں: اصحاب سبت اللہ کے رہنے والے تھے۔(سبت میں زیادتی کرنے والوں کے متعلق ) لوگوں نے ایک شخص کو کہا کہ وہ سیڑھی پر چڑھے اور ان کو دیکھے۔اس نے ان کو جھانک کر دیکھا کہ وہ بندر بن چکے ہیں۔