صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 357
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۵۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ٣٤١٥: وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ ۳۴۱۵: اور میں تو یہ بھی نہیں کہتا کہ کوئی یونس بن مٹی سم مِنْ يُونُسَ بْن مَتَى۔سے افضل ہے۔اطرافه: ٣٤١٦، ٤٦٠٤، ٤٦٣١، ٤٨٠٥۔٣٤١٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۴۱۶ : ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ کرتے ہوئے بتایا۔(انہوں نے کہا: ) میں نے حمید أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بن عبد الرحمن سے سنا۔وہ حضرت ابو ہریرہ سے ،حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِعَبْدِ أَنْ ابو هريرة نبي صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے يَقُوْلَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُوْنُسَ بْنِ مَتَى۔کہ آپ نے فرمایا : کسی بندے کو بھی نہیں چاہیے کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن مٹی سے بہتر ہوں۔اطرافه: ٣٤١٥، ٤٦٠٤، ٤٦٣١، ٤٨٠٥۔بَاب ٣٦ : وَسُلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ (الأعراف: ١٦٤) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) ان سے اس بستی کے متعلق پوچھ جو سمندر کے قریب تھی جب یہ لوگ سبت میں زیادتیاں کرتے تھے يَتَعَدَّوْنَ يُجَاوِزُوْنَ فِي السَّبْتِ إِذْ يَعْدُون کے معنی ہیں يَتَعَدُّونَ یعنی سبت کے بارہ میں تَأْتِيهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا حد سے بڑھتے ہیں۔جب ان کی مچھلیاں ان کے سبت شَوَارِعَ إِلَى قَوْلِهِ كُونُوا قِرَدَةً کے روز اُن کے پاس تیرتی ہوئی آتی تھیں۔شُرعا کے معنی ہیں شَوَارِع یعنی پانی پر تیرتی ہوئیں۔۔۔كُونُوا خُسِينَ (الأعراف: ١٦٧،١٦٤) قِرَدَةً خَاسِئِين ( تم ذلیل بندر بن جاؤ ) تک۔تشریح : وَاسْتَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ: : ------- يَعْدُون کے معنی ہیں کہ یہود احکام سبت بجائے ملحوظ رکھنے کے ان کی خلاف ورزی کرتے اور حدود سے بڑھ جاتے تھے۔إِذْ تَأْتِيَهُمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا شُرَّعًا كے معنى شوارع سر اٹھائے سطح آب پر تیرتی ہوئیں۔