صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 356
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۵۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ بَيْنَمَا يَهُوْدِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ کی کہ انہوں نے کہا: ایک بار ایک یہودی اپنا تجارتی أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ فَقَالَ لَا وَالَّذِي سامان بیچ رہا تھا، اس کو ا سامان کی کچھ ایسی ہی قیمت پیش کی گئی کہ جس کو اُس نے بُرا منایا اور اس نے کہا: اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ نہیں۔اس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام بشر سے رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ بہتر چنا۔انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی وہ وَقَالَ تَقُوْلُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى اُٹھا اور اس نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا: تو یہ عَلَى الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام بشر کہتا سے بہتر سمجھ کر چن لیا ہے۔حالانکہ نبی ﷺ ہم میں وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَقَالَ: موجود ہیں۔وہ یہودی آپ کے پاس گیا اور کہا: أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ ابو القاسم! میری حفاظت کا آپ نے ذمہ لیا ہوا ہے اور فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي فَقَالَ لِمَ لَطَمْتَ میرے ساتھ معاہدہ ہے۔پھر فلاں کو کیا شہ تھی کہ اس وَجْهَهُ فَذَكَرَهُ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے میرے منہ پر طمانچہ مارا۔آپ نے (انصاری سے بلا کر پوچھا: تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رُنِي فِي وَجْهِهِ ثُمَّ اس نے واقعہ بیان کیا۔نبی ﷺ یہ سن کر اس قدر غصہ قَالَ لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ فَإِنَّهُ میں آئے کہ آپ کے چہرہ سے وہ غصہ دکھائی دیا۔پھر يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي آپ نے فرمایا: اللہ کے نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ مت دو کیونکہ صور پھونکا جائے گا اور وہ جو آسمانوں میں شَاءَ اللهُ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيْهِ أُخْرَى فَأَكُونُ ہیں اور وہ جو زمین میں، بیہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے۔پھر دوبارہ صور پھونکا جائے أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ گا اور میں پہلا ہوں گا جو اُٹھے گا۔میں کیا دیکھوں گا کہ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ موسى عرش کو پکڑے ہوئے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ يَوْمَ الطُّوْرِ أَمْ بُعِثَ قَبْلِي۔طور کے دن جو وہ بیہوش ہوئے تھے وہ بے ہوشی کافی سمجھی گئی یا مجھ سے پہلے وہ اُٹھائے گئے۔۔اطرافة: ٢٤١١ ، ٣٤٠٨، ٤٨١، ٦٥١٧، ٦٥١٨، ٧٤٢٨ ٧٤٧٢ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ أَنْبِيَاءِ اللهِ" کے الفاظ ہیں (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۵۴۸) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔