صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 354
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۴ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء پہنچانے والے اور ان کی پیشگوئیوں کے مصداق ہیں۔ ابواب زیر شرح کا موضوع مواز نہ ہے اور اسی موضوع سے متعلق ہمیں باب کی محولہ بالا آیات جو حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق ہیں اور شرح الفاظ ذیل کے تبصرہ سے واضح ہو جائے گا کہ ر باب کا خلاصہ یہ ہے کہ وزن صحیح رکھو اور لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کی جائے بلکہ ہر شخص کو اس کا پورا حق دیا جائے اور ایسا طریق عمل نہ اختیار کیا جائے جس سے فساد ہو اور استہزاء سے کام نہ لیا جائے۔ اس خلاصہ کی مناسبت از خود ظاہر ہے کہ بوقت مقابلہ یہ اوامر الہیہ حضرت امام بخاری کے مد نظر ہیں اور اس میں وہ صراط مستقیم سے ادھر اُدھر نہ ہوں گے۔ آیت وَرَاءَ كُمْ ظِهْرِيًّا اور اس کے محل استعمال لَا تَجْعَلُ حَاجَتِي بِظَھر کا حوالہ دے کر ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ہم ابواب زیر شرح کا مطالعہ کرتے وقت ان کا مقصود نظر انداز نہ کریں۔ ظهر اور ظهری کے محاورہ کی طرف توجہ دلانے میں یہی امران کے مد نظر ہے کہ سابقہ انبیاء کی شریعتیں منزل مقصود تک پہنچانے میں کارآمد ذریعہ نہیں ہیں بلکہ محمد رسول اللہ اللہ صلی صلی ! اللہ علیہ وسلم کی ذات جامع الصفات والبر والبرکات کار اب بنی نوع انسان کے لئے رہنماء رہنماء کامل کا ہے۔ اگر یہ باتیں ملحوظ رکھی جائیں تو باب ۳۴ کی سابقہ ابواب کے اصل موضوع کے ساتھ پوری مطابقت عیاں ہو جاتی ہے۔ ورنہ عنوانِ باب کے یہ یمنی حوالے جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے، بے جوڑ اور بلا ضرورت ہوں گے۔ باب ٣٥ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ١٤٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یونس بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا إِلَى قَوْلِهِ وَهُوَ مُلِيمُ (الصافات: ١٤٣) قَالَ مجاہد نے کہا: وَهُوَ مُلِیم کے معنی ہیں کہ وہ گنہ گار تھا ۔ مُجَاهِدٌ مُذْنِبٌ الْمَشْحُونَ (الصافات: ١٤١) الْمَشْحُون کے معنی ہیں بوجھ سے لدی ہوئی۔ اگر وہ الْمُوْقَرُ فَلَوْ لَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو اس مچھلی کے الْمُسَبِّحِينَ (الصافات: ١٤٤) الْآيَةَ ۔ پیٹ میں قیامت کے دن تک پڑا رہتا ( یعنی مرجاتا ) فَنَبَذْنُهُ بِالْعَرَاءِ بِوَجْهِ الْأَرْضِ وَهُوَ پھر ہم نے اس کو ایک کھلے میدان میں پھینک دیا جبکہ سَقِيمُ وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ وہ بیمار تھا۔ بِالْعَرَ آءِ کے معنی ہیں سطح زمین پر ۔ اور ہم يَقْطِيْنِ مِنْ غَيْرِ ذَاتِ أَصْلِ الدُّبَّاءِ نے اس کے پہلو میں ایک کدو کا درخت اُگایا۔ وَنَحْوِهِ۔ وَأَرْسَلْتُهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفِ أَوْ يَقْطِين جس کا تنا نہ ہو جیسے کرو وغیرہ ۔ اور ہم نے يَزِيدُونَ فَأَمَنُوا فَمَتَعْتُهُمْ إلى اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا وہ حِيْنِ (الصافات: ١٤٦-١٤٩) ایمان لائے اور ہم نے انہیں ایک مدت تک فائدہ دیا۔