صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 354
صحيح البخاري - جلد 4 ۳۵۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء پہنچانے والے اور ان کی پیشگوئیوں کے مصداق ہیں۔ابواب زیر شرح کا موضوع موازنہ ہے اور اسی موضوع سے متعلق ہمیں باب کی محولہ بالا آیات جو حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق ہیں اور شرح الفاظ ذیل کے تبصرہ سے واضح ہو جائے گا کہ باب کا خلاصہ یہ ہے کہ وزن صحیح رکھو اور لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کی جائے بلکہ ہر شخص کو اس کا پورا حق دیا جائے اور ایسا طریق عمل نہ اختیار کیا جائے جس سے فساد ہو اور استہزاء سے کام نہ لیا جائے۔اس خلاصہ کی مناسبت از خود ظاہر ہے کہ بوقت مقابلہ یہ اوامر الہیہ حضرت امام بخاری کے مدنظر ہیں اور اس میں وہ صراط مستقیم سے اِدھر اُدھر نہ ہوں گے۔آیت وَرَاءَ كُمْ ظِهْرِيًّا اور اس کے محل استعمال لَا تَجْعَلُ حَاجَتِى بِظَهْرِ کا حوالہ دے کر ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ہم ابواب زیر شرح کا مطالعہ کرتے وقت ان کا مقصود نظر انداز نہ کریں۔ظہر اور ظہری کے محاورہ کی طرف توجہ دلانے میں یہی امران کے مد نظر ہے کہ سابقہ انبیاء کی شریعتیں منزل مقصود تک پہنچانے میں کارآمد ذریعہ نہیں ہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات جامع الصفات والبرکات اب بنی نوع انسان کے لئے رہنماء کامل ہے۔اگر یہ باتیں ملحوظ رکھی جائیں تو باب ۳۴ کی سابقہ ابواب کے اصل موضوع کے ساتھ پوری مطابقت عیاں ہو جاتی ہے۔ورنہ عنوان باب کے یمنی حوالے جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے، بے جوڑ اور بلاضرورت ہوں گے۔باب ٣٥ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ١٤٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یونس بھی یقینا مرسلین میں سے تھا إِلَى قَوْلِهِ وَهُوَ مُلِيْمُ (الصافات: ١٤٣) قَالَ مجاہد نے کہا: وَهُوَ مُلِیم کے معنی ہیں کہ وہ گنہ گار تھا۔مُجَاهِدٌ مُذْنِبِّ الْمَشْحُونَ (الصافات: ١٤١) الْمَشْحُون کے معنی ہیں بوجھ سے لدی ہوئی۔اگر وہ الْمُوْقَرُ فَلَوْ لَا اَنَّهُ كَانَ مِن تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو اس مچھلی کے الْمُسَبِّحِينَ (الصافات: ١٤٤) الْآيَةَ۔پیٹ میں قیامت کے دن تک پڑا رہتا ( یعنی مرجاتا ) فَتَبَذْنُهُ بِالْعَرَاءِ بِوَجْهِ الْأَرْضِ وَهُوَ پھر ہم نے اس کو ایک کھلے میدان میں پھینک دیا جبکہ سَقِيمُه وَاَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ وہ بیمار تھا۔بالعَرآء کے معنی ہیں سطح زمین پر۔اور ہم يَقْطِيْنِ مِنْ غَيْرِ ذَاتِ أَصْلِ الدُّبَّاءِ نے اس کے پہلو میں ایک کدو کا درخت اُگایا۔وَنَحْوِهِ۔وَاَرْسَلْنَهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفِ اَوْ يَقْطِين جس کا تنا نہ ہو جیسے کدو وغیرہ۔اور ہم نے يَزِيدُونَ فَأَمَنُوا فَمَتَّعْنَهُمُ إلى اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا وہ حِينٍ (الصافات: ١٤٦ - ١٤٩) ایمان لائے اور ہم نے انہیں ایک مدت تک فائدہ دیا۔