صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 353
۳۵۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء صحيح البخاري - جلد 4 ان آیات میں كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا کے معنی ہیں لَمْ يَعِيشُوا گویا وہ کبھی رہے ہی نہیں تھے۔اور سورۃ الاعراف میں ہے: فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَقَوْمٍ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَلَتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ آسَى عَلى قَوْمٍ كفِرِينَ) (الأعراف: ۹۴) اس پر وہ ( یعنی شعیب ) ان سے پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور کہتے گئے : اے میری قوم! میں نے اپنے رب کے پیغام تم کو پہنچا دیئے تھے اور تم کو نصیحت کر دی تھی۔پس اب میں منکر قوم پر کس طرح افسوس کروں۔اس آیت میں آسٹی کے معنی ہیں أَحْزَنُ - كَيْفَ آسی کے معنی ہوں گے میں اپنے غم کا کیونکر اظہار کروں جو مجھے اپنی قوم کی حالت پر ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ : لَيْكَة اہل مکہ کا تلفظ ہے الائكة کا۔یہ ابن ابی حاتم نے بسند ابن ابی نجیح مجاہد سے روایت کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۵۴۷) قرآنِ مجید میں ان کا ذکر یوں آتا ہے: كَذَّبَ أَصْحَابُ لَتَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ 0 إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُونَ (الشعراء: ۱۷۷ ۱۷۸) بن کے رہنے والوں نے بھی رسولوں کا انکار کیا تھا جبکہ ان سے شعیب نے کہا کہ کیا تم تقویٰ نہیں کرتے۔پھر اسی قوم کی ہلاکت سے متعلق فرماتا ہے: فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يُوْمِ الظُّلَةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (الشعراء: ۱۹۰) گر ( اس کے سمجھانے کے باوجود ) انہوں نے اس کو جھٹلایا۔پس ان کو سایہ کے دن والے عذاب نے آپکڑا۔(یعنی گھنے اور دیر پا بادلوں کے عذاب نے ) وہ یقیناً ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔عنوان باب میں يَومُ الظُّلہ والے عذاب کا حوالہ دیا گیا ہے کہ گھنے بادل ان کی تباہی کا باعث ہوئے۔0 پھر سورۃ الحجر آیات ۷۹ ۸۰ میں ہے: وَإِنْ كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِيْنَ o فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ؟ وَإِنَّهُمَا لبا مامٍ مُبِین اور ایکہ والے بھی یقینا ظالم تھے۔اس لئے ہم نے انہیں بھی (اسی طرح سخت سزا دی تھی اور یہ دونوں جگہیں ایک (صاف اور ) واضح راستے پر ( واقع ) ہیں۔جمہور کے نزدیک اصحاب الایکہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا دوسرا نام ہے۔ایکہ گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔جہاں بیری پیلو وغیرہ کی جھاڑیاں بکثرت ہوں۔بعض نے عذاب کی نوعیت کے اختلاف کی وجہ سے مدین اور ایکہ دو الگ الگ جگہیں مراد لی ہیں جن کی طرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے۔ایک بستی کی سزا رجفة یعنی زلزلہ اور دوسری کی صَيْحَة اور ظلة بتائی گئی ہے۔امام ابن حجر نے دونوں قسم کے عذاب مراد لئے ہیں۔یہ بحث چنداں اہمیت نہیں رکھتی۔مذکورہ بالا الفاظ کی شرح کے سوا اس باب کے تحت کوئی ایسی روایت یا حدیث مروی نہیں جس میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات کا ذکر ہو بحالیکہ ان کے ذکر سے متعلق اقوال نبویہ نقل کئے جاسکتے تھے۔امام ابن حجر نے بھی یہ سوال اُٹھا کر صرف مذکورہ بالا جواب پر اکتفا کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۵۴۷) یہ بتایا جا چکا ہے کہ کتاب الانبیاء کا مقصود بالذات انبیاء علیہم السلام کے حالات کا بیان نہیں بلکہ اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات خاتم الانبیاء ہے جو انبیاء علیہم السلام کے مظہر اتم اور ان کی غرض وغایت کو پایہ تکمیل تک