صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 352 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 352

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۵۲ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء سوم: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا - زمین میں اصلاح کی صورت قائم ہونے کے بعد بگاڑ پیدا نہ کرو۔چهارم: صراط مستقیم پر قائم رہو اور اس میں کج روی اختیار نہ کرو۔مزید برآں سورۃ ہود کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں آیت انگ لَأَنْتَ الْعَلِيمُ الرَّشِيدُ نمایاں کر کے بحوالہ حسن بصری اس کی شرح یہ نقل کی ہے کہ قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کی ان الفاظ میں تعریف نہیں بلکہ ان سے استہزاء کیا یعنی ان کا مذاق اُڑایا ہے۔حضرت شعیب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت سے ان کی پانچویں پشت میں ہوئے ہیں۔مدین کی بستی طور سیناء کے جنوب مشرق میں بحیرہ قلزم کے ساحل پر واقع ہے اور یہ ان کے عہد میں تجارت کی بڑی منڈی تھی جس کا ذکر بطلیموس نے بھی کیا ہے۔مدیان ان کے ایک بیٹے کا نام تھا جو ان کی بیوی قطورہ کے بطن سے پیدا ہوا۔(دیکھئے پیدائش باب ۲۵ آیت ۲،۱) حضرت شعیب علیہ السلام کے تعلق میں سورۃ ہود کی آیت ۹۳ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے: قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِيَ أَعَزُّ ط عَلَيْكُم مِّنَ اللهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَ كُمْ ظِهْرِيَّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ) (هود: ۹۳) انہوں نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا گر وہ اللہ کی نسبت تمہاری نظر میں زیادہ قابل عزت ہے اور اُسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈالا ہوا ہے۔جو کچھ تم کرتے ہو اسے میرا رب خوب جانتا ہے۔وَرَاءَ كُمُ ظهرِيًّا پس پشت ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا پاس نہیں رکھا اور اس کے احکام ٹال دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کی۔جو حاجت پوری نہ کرے اور توجہ نہ دے تو عربی میں کہا جاتا ہے : ظَهَرْتَ حَاجَتِی یعنی تو نے میری حاجت پیٹھ کے پیچھے ڈال دی اور کہتے ہیں: لَا تَجْعَلُ حَاجَتِي بِظَهْرٍ میری حاجت نہ بھولئے۔(لسان العرب - ظهر) امام ابن حجر نے شاعر کا یہ قول نقل کیا ہے: وَجَدْنَا بَنِي الْبَرْصَاءِ مِنْ وَلَدِ الظُّهْرِ - ( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۵۴۶) یعنی برصاء کے بیٹے ظہر کی اولاد ہیں۔ان سے مددمل سکتی ہے مگر وہ ہماری طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے۔اور ظہری اونٹ کی سواری یا سامان کو بھی کہتے ہیں جو بوقت ضرورت کار آمد ہو۔سورۃ ہود کی آیت ۹۴ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ * مَنْ يَّأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رقیب (هود: ۹۴) اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر (اپنے) کام کئے جاؤ۔میں ( بھی اپنی جگہ پر ) اپنا کام کر رہا ہوں۔عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کون ہے جس پر رسوا کر دینے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے ( اور کون سچا ) اور تم ( بھی اپنے اور میرے انجام کا انتظار کرو۔میں بھی یقینا تمہارے ساتھ ( نتیجہ ) کا منتظر رہوں گا۔نیز آیت ۹۶ کا بھی كَأَن لَّمْ يَغْتَوُا فِيهَا أَلَا بُعْدًا لِمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُه (هود: ۹۶) گویا وہ ان میں (کبھی) رہے (ہی ) نہ تھے۔سنو! مدین کے لئے بھی (خدا تعالیٰ نے ) لعنت مقدر کی تھی جیسا کہ خمود کے لئے (خدا تعالیٰ نے ) لعنت مقدر کی تھی۔