صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 351 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 351

البخاري - جلد 1 ۳۵۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء دَابَّةٌ أَوْ وِعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ کہتے ہیں : جَعَلْتَنِی ظِهْرِيًّا تم نے مجھے پس پشت مَكَانَتِهِمُ (يس: ٦٨) وَمَكَانُهُمْ ڈال دیا ہے۔ظھری کے معنی ہیں ساز وسامان۔جیسے سواری یا برتن جو پیش آمدہ ضرورت کو پورا کرنے کیلئے تم اپنے ساتھ لے لو۔مَكَانَتُهُمْ اور مَكَانُهُمْ وَاحِدٌ۔يَغْنَوْا (هود: ٩٦) يَعِيْشُوا۔يَأْيَسُ يَحْزَنُ اسی (الأعراف: ٩٤) دونوں کے ایک ہی معنے ہیں یعنی جگہ۔(یہ جو فرمایا: گان أَحْزَنُ۔وَقَالَ الْحَسَنُ إِنَّكَ لَأَنْتَ لَمْ يَغْنَوْا) يَغْنَوا کے معنی ہیں وہ زندہ رہے۔( یہ جو الْحَلِيمُ (هود: ۸۸) يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ وَقَالَ فرمایا : فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ) يَأْيَسُ کے مُجَاهِدٌ لَيْكَة الْأَيْكَةُ (الشعراء: ۱۷۷) معنی ہیں وہ غم کرتا ہے۔آئی میں غم کروں۔اور حسن الظُّلَّةِ (الشعراء: ١٩٠) إِظْلَالُ (بصری) نے کہا: (حضرت شعیب کے بیان میں جو آیا يَوْمِ ہے: إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ تو یہ مذاق ہے لوگوں کا ان سے۔اور ( یہ جو اس آیت میں آیا ہے كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ) مجاہد نے کہا: لَيْكَة - الْأَئِكَةُ سے مراد ہے جھاڑیوں کا بن۔يَومُ الظُّلَّة سے مراد الْغَمَامِ الْعَذَابَ عَلَيْهِمْ۔ہے بادل کا عذاب ان پر چھا گیا۔تشریح : وَإِلَى مَدْيَنَ أَحَاهُمْ شَعَيْبًا: میں سے ایل این مرد میں کونکہ دین ستی کا نام ہے سورہ یوسف میں ان کے بھائیوں کا قول مذکور ہے: وَسُئَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِى كُنَّا فِيهَا وَالْعِيْرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ٥ (يوسف : (۸۳) قَرْيَة سے اہل قریہ اور عید سے اہل میر مراد ہیں۔یعنی گاؤں والوں سے اور قافلے والوں سے پوچھ ( کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے یا نہیں ) یہ عربی اسلوب کلام صرف قوم یا قریہ یا قافلہ ہی سے مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔بعض اوقات مضاف حذف کر دیا جاتا ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں سورۃ الاعراف کے سوا چار اور سورتوں میں وارد ہوا ہے۔(دیکھئے سورة هود : ۸۴ تا ۹۶، سورة الحجر: ۷۹، ۸۰، سورة الشعراء : ۱۷۶ تا ۱۹۲ ، سورة العنكبوت: ۳۷، ۳۸) انہیں چھوڑ کر سورۃ الاعراف کی آیت ۸۶ کا حوالہ ابواب موازنہ کے عین مناسب ہے۔کیونکہ اس سورۃ کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ حضرت شعیب نبی علیہ السلام نے قوم کو دعوت توحید کے ساتھ چار باتوں کی نصیحت فرمائی: اوّل: أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ - ماپ تول پورا رکھا کرو۔دوم: وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمُ - لوگوں کو جو اشیاء دی جائیں ان میں کمی نہ ہو، ہر شخص کا حق پورا ادا کرو۔