صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 27
صحيح البخاری جلد ٦ ۲۷ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۶۰) يُولِجُ سے آیت قُلِ اللَّهُمَّ مَلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ (آل عمران: (۲۷) کی طرف اشارہ ہے اور يُولِجُ کے معنی يُكَوِّرُ کئے گئے ہیں اور وَلِيجَة ہر وہ شئے جو کسی دوسری شئے میں داخل کی جائے۔غرض اس باب میں سورج اور چاند سے متعلق تیرہ آیات کا حوالہ دے کر سورج اور چاند کی مختلف حالتوں اور ان سے متعلق اس استدلال کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عالم سماوی کا سارا نظام قادر و علیم و حکیم خالق کے ارادہ وحکم اور ایک معین تقدیر وتد بیر کے تحت قائم و دائم ہے اور یہ نظام جس طرح اس کی قدرت کا ملہ سے وجود میں آیا ہے، اسی طرح زوال پذیر بھی ہے۔اس باب کے تحت چھ روایتیں درج ہیں۔پہلی روایت حضرت ابوذر سے مروی ہے کہ سورج روزانہ عرشِ الہی کے تحت سجدہ کرتا اور اپنے خالق کی اجازت سے غروب ہونے کے بعد طلوع کرتا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور اسے مشرق سے طلوع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سورج سے متعلق یہی وہ الہی تقدیر ہے جس کا ذکر آیت وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍ لَّهَا (یس : ٣٩) میں کیا گیا ہے۔آیت کی جو تفسیر حدیث میں بیان کی گئی ہے اس کے متعلق یہ امر یادر ہے کہ یہ مفردات کے لغوی معانی ہیں۔سیاق کلام اور حقائق الاشیاء کے اعتبار سے شرح نہیں۔کائنات عالم سے متعلق انسان کا مشاہدہ اور علم جوں جوں ترقی کرتا جاتا ہے اس کے لئے کلام اللہ کا مفہوم بھی واضح سے واضح تر ہوتا جاتا ہے۔مخلوق خالق کا فعل ہے اور قرآن مجید اس کا کلام فعل الہی اور کلام الہی میں توافق ضروری ہے۔جو کلام خالق سے فعل کے خلاف ہوگا وہ اس کا کلام نہیں بلکہ انسانی تخیل اور انسانی کلام ہے۔عربی زبان میں بڑی وسعت ہے اور قرآن مجید میں عربی اسلوب کلام کے مطابق ایجاز اور اختصار سے کام لیا گیا ہے۔اس لئے مذکورہ بالا مفردات کی لغوی شرح پر حصر نہیں کیا جاسکتا۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلاں زمانہ میں فلاں عالم نے فلاں لفظ کے یہ معنے سمجھے تھے۔ان معانی کے پیش نظر یہ طریق اختیار کرنا مناسب نہیں کہ حقائق الاشیاء کے سمجھنے میں انسان نے جو ترقی کی ہے اور ایک یقینی علم حاصل کیا ہے اور آیات کے الفاظ ایسے معانی کے متحمل ہیں جو جدید علم کے مطابق ہیں تو ان کے معانی اس لئے قبول نہ کئے جائیں کہ فلاں عالم نے اس کے مختلف معانی بتائے ہیں۔یہ طریق درست نہ ہوگا۔کیونکہ ایسا کرنا منشائے کلام الہی کے خلاف ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ لوَكَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف:۱۱۰) تو ان سے کہہ دے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لیے روشنائی بن جائے تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے سمند ر ختم ہو جائے ( اور وہ ختم نہ ہوں ) گواتنا ہی اور سمندر روشنائی بڑھانے کے لئے ) کیوں نہ لے آئیں۔اس آیت سے اس کلام الہی کی وسعت ظاہر ہوتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔سورہ کہف کے سیاق موضوع میں کلمات سے مراد قرآن مجید ہے۔الغرض آیات کے مفردات کی جو شرح بعض علماء نے کی ہے، اس پر حصر کر لینا درست نہیں۔بلکہ آیات کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھ کر نئے علوم کی روشنی میں جو تفسیر عربی لغت کے مفردات کی ہو سکے گی ، وہ قابل قبول ہوگی۔لفظ يُولِجُ آيت يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِی الَّيْلِ (فاطر: ۱۴) میں آیا ہے۔