صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 350
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۰ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء ہوا اور بخشیش غیروں کو دی جائے۔ کسی نے یہ بات آپ تک پہنچا دی تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا اور صرف ایک دلر با فقرے سے ان کی ذہنی الجھنیں اس انداز دلر بائی سے دور فرمائیں کہ اگر لاکھوں کے اموال انہیں دیئے جاتے تو انہیں اس سے وہ خوشی نہ ہوتی جو آپ کے اس ایک فقرے سے ہوئی۔ آپ کے صحابہ کے اس وفور محبت و عشق اور فریفتگی کا جو انہیں آپ سے تھا الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس روح اخلاص نے صحابہ کرام کو اس شمع نور کا پروانہ بنائے رکھا۔ کجا یہ نفوس مطہرہ اور کجا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بے قابو اور گردن کش ساتھی۔ یہ امر کہ یہاں ابواب کا موضوع دراصل موازنہ ہے، باب ۳۵ میں حضرت یونس علیہ السلام سے متعلق روایات کے اعادہ سے ظاہر ہے جو بلا وجہ نہیں دُہرائی گئیں۔ امام موصوف قارئین کو جتلا رہے ہیں اور یاد دہانی کرارہے ہیں کہ ان کے علم میں وہ احادیث ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بنِ مَتَّی۔ اور یہ کہ آپ نے ایک موقع پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: لَا تُفَضِلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ ( روایت نمبر ۳۴۱۴) لیکن یہ موقع وہ تھا جس نے دنگہ فساد کی صورت اختیار کر لی تھی اور آپ نے انصاری سے پوچھا: لِمَ لَعَمْتَ وَجْهَهُ؟ تم نے یہودی کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا۔ مگر یہاں امام موصوف کے موازنہ میں یہ مذموم صورت فتنہ انگیزی نہیں بلکہ امر واقعہ کا بیان ہے۔ اس سے قبل باب ۳۴ ہے جس میں حضرت شعیب سے متعلق آیات کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس کے تحت سوائے شرح الفاظ کوئی روایت درج نہیں اور ان الفاظ کا باب کی روایات کے موضوع سے معنوی تعلق ہے جو ابھی بیان کیا جائے گا۔ باب ٣٤ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَإِلى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا (الأعراف : (٨٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لِأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ وَمِثْلُهُ مدین سے مراد مدین کے باشندے ہیں۔ کیونکہ مدین وَسُثَلِ الْقَرْيَةَ (يوسف : ۸۳) وَاسْأَلِ ایک شہر ہے۔ اور اسی آیت کی طرح یہ آیت ہے : اور اس بستی سے پوچھو جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے الْعِيْرَ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَأَهْلَ الْعِيْرِ پوچھو جس میں ہم آئے بہستی سے مراد بستی والے اور وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (هود: ۹۳) لَمْ قافلہ سے مراد قافلہ والے لوگ ہیں۔ (اور یہ جو فرمایا :) يَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ يُقَالُ إِذَا لَمْ تَقْضِ تم نے اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی طرف مڑ کر دیکھا بھی نہیں۔ کوئی جب کسی کی حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ حَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ضرورت کو پورا نہ کرے کہتے ہیں: ظَهَرْتَ حَاجَتِی ظِهْرِيًّا قَالَ الظَّهْرِيُّ أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ یعنی تو نے میری ضرورت کو پس پشت ڈال دیا ہے یا